بھوپال 8جولائی:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کے وژن کے مطابق مدھیہ پردیش کے شہروں میں بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کی ضروریات پوری ہوں گی۔ خوشحال اور ترقی یافتہ شہر ریاست کی جامع ترقی کا سنگ بنیاد بنیں گے۔ اس کو حقیقت بنانے کے لیے مدھیہ پردیش گروتھ کانکلیو کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔’نیکسٹ ہورائزن: بلڈنگ سٹیز آف ڈومورو:تھیم پر مرکوز ہونے والے کانکلیو میںملک کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی عظیم شخصیات مدھیہ پردیش میں شہری ترقی اور سرمایہ کاری پر 2047 @ ترقی یافتہ مدھیہ پردیش کے لیے شہری ترقی کے بلیو پرنٹ پر تبادلہ خیال کریں گے۔ یہ کانکلیو 11 جولائی کو اندور کے بریلینٹ کنونشن سینٹر میں منعقد کیا جا رہا ہے۔
مدھیہ پردیش میں شہری معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ ریاست میں 4 شہر ایسے ہیں جن کی آبادی 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔ نیز مرکز کے اسمارٹ سٹی پروجیکٹ میں 7 شہر شامل ہیں۔ شہری علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق 72 ہزار کروڑ روپے کے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہری علاقوں سے متعلق تقریباً 88 ہزار کروڑ روپے کی ترقیاتی اسکیمیں تجویز کی گئی ہیں۔ مدھیہ پردیش نے صفائی کے معاملے میں ملک میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ اندور پچھلے 7 سالوں سے ملک کے صاف ترین شہروں کے زمرے میں پہلے نمبر پر ہے۔ بھوپال نے ملک کی دوسری صاف ستھری راجدھانی بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ریاستی بجٹ میں شہری علاقوں کی ترقی کے لیے سالانہ 15 ہزار 780 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) میں شہری علاقوں کا حصہ 35.55 فیصد ہے۔ شہری علاقوں میں چلائی جانے والی مرکز کی فلیگ شپ اسکیموں کے نفاذ میں ریاست بہترین کارکردگی دکھانے والی ریاستوں میں شامل ہے۔ شہری ترقی سے متعلق اسکیموں کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے سنگل ونڈو سسٹم کے انتظامی بندوبست کیے گئے ہیں۔ریاست میں ہاؤسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے اچھے امکانات ہیں۔ سستی رہائشوں میں 8 لاکھ 32 ہزار سے زائد سستے گھر بنائے گئے ہیں۔ ریاست میں 10 لاکھ نئے گھر بنائے جا رہے ہیں۔
ان میں 50 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ رئیل اسٹیٹ اسکیموں کے نفاذ کے لیے ریاست میں انسانی وسائل کی ایک معیاری ورک فورس دستیاب ہے۔ ریاست کے شہری علاقوں میں 6 ہزار کلومیٹر سڑک، 80 فیصد شہری علاقوں میں پائپ لائن واٹر سپلائی کوریج کی سہولت اور 100 فیصد شہری علاقوں میں سیوریج سسٹم موجود ہے۔ شہری علاقوں میں بلدیاتی اداروں میں آن لائن ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر 23 خدمات دستیاب کرائی گئی ہیں۔ بلدیاتی اداروں میں سنٹرلائزڈ پورٹل کے ذریعے منظوری دی جا رہی ہے۔ ریاست کے شہری علاقوں میں بنیادی سہولتوں سے متعلق اسکیموں پر 17 ہزار 230 اسکیمیں لاگو کی جارہی ہیں۔ شہری علاقوں میں صاف ستھرے ماحول کے لیے 2 ہزار 800 کروڑ روپے اور واٹر فرنٹ سے متعلق ترقی کے لیے 2 ہزار کروڑ روپے کے پروجیکٹوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ ریاست کے شہری علاقوں میں منظم ٹرانسپورٹ سسٹم کو وسعت دینے کے لیے 21 ہزار کروڑ روپے کے پروجیکٹ چلائے جا رہے ہیں۔ فضائی آلودگی پر قابو پانے اور پٹرولیم ایندھن کے کاربن فوٹ پرنٹ کو روکنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ریاست کے بڑے شہروں میں 552 الیکٹرک بسیں شروع کی جارہی ہیں۔ ریاست میں الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے کے لیے الیکٹرک وہیکل پالیسی-2025 نافذ کی گئی ہے۔