بھوپال:21اگست: وماارسلناک الا رحمۃ اللعالمین: ہم نے آپ کو دونوں جہاں کیلئے رحمت بناکر بھیجا ۔اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان و کرم ہے کہ اس نے ہمیں اور آپ کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرماکر ایک ایسے نبی کی امت میں شامل کیا جو ساری کائنات کیلئے رحمت بن کر آیا ۔تمام نبیوں میں افضل ، تمام رسولوں میں برتر اور آخری رسول کی حیثیت سے تمام انبیاء و رسل کا امام و سردار۔ ہم بڑے خوش نصیب ہیں کہ ایسے رسول کا امتی ہونے کا ہمیں بارگاہ الٰہی سے اعزاز بخشا گیا۔
مذکورہ باتیں آج قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے نماز جمعہ سے قبل موتی مسجد بھوپال میں اپنے خطاب کے دوران فرمائیں ۔قاضی شہر نے فرمایا کہ یہ مہینہ ربیع الاول کا مہینہ ہے ،اسی مبارک ماہ کی 12تاریخ کوہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ اس دنیا میں مبعوث ہوئے ۔ آپﷺکی ولادت باسعادت سے قبل نہ صرف عرب بلکہ عجم کے کیا حالات تھے ،اس کی تفصیل تاریخ کے اوراق میں آفتاب نصف النہار کی طرح موجود ہے ۔جب ایک باپ اپنی بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا کرتا تھا،نا انصافی،یتیموں کے مال میں خورد برد ، معمولی تکرار پر قتل و غارت گری،یہ ایسے عیوب تھے جنہیں عیب سمجھا ہی نہیں جاتا تھا۔ انسانیت سسک سسک کر جاں بلب ہوگئی تھی ، شرافت و پاکدامنی قصہ پارینہ بن کر رہ گئی تھی ، معبود برحق کو بھلا کر لوگوں نے سیکڑوں معبود ان باطل بنا رکھے تھے ،گویا انسانیت اور اس کا شرف بالکل بے نام و نشان ہوکر رہ گیا تھا ۔ ایسے پر آشوب دور میں خالق کائنات ایک ایسی ذات کو اپنا پیغمبر بناکر اس زمین پر مبعوث فرماتا ہے جو آتے ہی کائنات کیلئے ’رحمت و برکت‘ ثابت ہوتا ہے ۔اسے ایک مثال کے ذریعے سمجھئے کہ ایک باپ جس کا بیٹابیمار ہے،اس نے اپنے بیٹے کی شفایابی کیلئے ہر جتن کرلئے،علاج و معالجہ کے تمام طریقے اپنا لئے ، ساری تدبیریں کرلیں مگر اس کا بچہ شفایاب نہیں ہوا ، ایک دن اس بے چین باپ سے ایک ایسا شخص ملتا ہے جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کس حال میں ہے َ بیمار بچے کا باپ اپنے اضطراب و مشکلات کا اس سے ذکر کرتا ہے ، وہ شخص بولتا ہے کہ چلو میں بھی کچھ تدبیر کردوں ۔ وہ بچے کو تین خوراک دوا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ایک خوراک آج دوسری کل اور تیسری خوراک پرسوں کھلا دینا ۔ اس بیمار بچے کا باپ ایسا ہی کرتا ہے ۔بچہ دوا کی پہلی خوراک کھاکر بولنا شروع کردیتا ہے ، دوسری خوراک کھاکر بستر سے اٹھ بیٹھنے کی طاقت آجاتی ہے اور تیسری خوراک کھاکر وہ چلنے پھرنے لگتا ہے ۔بچے کی حالت میں آئی تبدیلی سے خوش باپ اس شخص کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ میرے لئے فرشتہ رحمت بن کر آئے ۔میرے محترم بزرگو اور دوستو! یہی کیفیت ہمیں یہاں بھی نظر آتی ہے ۔آپ ﷺ کی تشریف آوری سے قبل عرب و عجم کے لوگ روحانی طور پر اتنے بیمار اور بے حال تھے کہ انہیں شرف انسانی کا پتہ تھا نہ بندہ ہونے کی حیثیت سے اپنے معبود کی خبر ۔ جسم تو زندہ تھا مگر روح مر چکی تھی،ضمیر مردہ ہوچکا تھا اور احساس رخصت ہوچکا تھا ،گویا انسانیت جاں بلب ہوکر آخری سانس لے رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی رحمت بھیج دی جس نے چند برسوں میں ہی اس انسانی معاشرے کو زحمت سے نکال کر رحمت میں بدل دیا ۔جو لوگ بیٹیوں کے وجود کو برداشت نہیں کرتے تھے اب وہ بیٹیوں کو رحمت سمجھنے لگے جو لوگ قتل و قتال کو اپنا خاندانی ورثہ جانتے تھے ،اب پر سکون زندگی گزارنے لگے ،جو لوگ یتیموں کے مال کھاجانے کو اپنا ہنر جانتے تھے اب یتیموں کو سہارا دینے لگے اور جو لوگ سیکڑوں معبودان باطل اپنے ہی ہاتھوں بناکر ان کی پوجا کرتے تھے ،اب ایک خدا کے سامنے جھکنے لگے ۔جو انسانیت کے نام پر دھبہ تھے اب وہ مثالی شخصیت بن گئے۔حاضرین مسجد! ذرا سوچئے یہ انقلاب کیسے آیا ،انسانیت بدل گئی، معاشرہ بدل گیا اور اخلاق و اطوار میں انقلاب آگیا۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ اس بے چین اور بے راہ رو انسانی معاشرے نے معلم کائنات ﷺ کی رہنمائی قبول کی ، آپ کے اقوال و افعال کو اپنی زندگیوں میں جگہ دی اور خود کو ایک نیک بندہ بنانے کی کوشش کی تو اللہ نے ان کی مدد کی ۔معلوم ہوا کہ جب تک چاہت نہیں ہوگی نصرت الٰہی بھی شامل حال نہیں ہوسکتی۔لہذا ایک اچھا مسلمان بننے کیلئے سیرت رسول پر عمل کرنا لازمی ہے ،اقوال رسول کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں داخل کرنا ہی واحد حل ہے ۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم اپنے نفس کی سنیں اور اللہ تعالیٰ ہماری سنے ۔قاضی شہر نے حاضرین مسجد سے اپیل کی کہ آج کا موجودہ دور بھی اسلام سے پہلے والے دور کے مماثل ہے ،بندگان خدا اپنے رب سے بہت دور ہوگئے ہیں اور وہی عیوب جو اسلام سے قبل لوگوں میں پائے جاتے تھے ،آج کسی نہ کسی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہیں ۔ نفس اس قدر حاوی ہوتا جارہا ہے کہ اب کتاب و سنت اور اللہ و رسول پر بھی اعتراضات کئے جانے لگے ہیں ،انسانی بھیڑ میں ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو اپنی پسند کے مطابق قرآن و احادیث میں تاویل کرکے دین کو کمزور اور اہل ایمان کو کنفیوز کرتے ہیں ۔ یہ جسارت ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے جس پر کام کیا جارہا ہے ۔ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ،اپنے بچوں کی اسلامی نہج پر شروع سے تربیت کیجئے تاکہ یہ بچے اسلام کو کمزور کرنے کی پالیسی پر گامزن گروہ کا شکار نہ بنیں اور اپنا ایمان محفوظ رکھ سکیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیرت طیبہ پر مضبوطی کے ساتھ عمل کرنے کا حوصلہ بخشے ۔