ابھی گزراہوا 5 ستمبر کا دن ہمارے لئے دوہری معنویت رکھتا ہے۔ ایک طرف آج عید میلادالنبی ﷺکا دن ہے، جس دن کائنات کے سب سے عظیم انسان اور سب سے بڑے معلّم کی ولادت ہوئی۔ دوسری طرف یہ دن (5؍ ستمبر)یومِ اساتذہ کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ حقیقت میں ایک پیغام ہے کہ سب سے بڑا استاد وہ ہے جس نے انسانیت کو علم، اخلاق اور تہذیب کی روشنی عطا کی اور وہ ہیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ۔
نبی کریم ﷺ کو قرآن نے ’’معلم‘‘ کے طور پر متعارف کرایا: ”یُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیہِمْ’۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو صرف کتابی علم نہیں دیا بلکہ ان کے کردار کو سنوارا، ان کی فکر کو بلند کیا اور انہیں دنیا کا سب سے مہذب معاشرہ بنا دیا۔ وہی صحابہ کرام بعد میں دنیا بھر میں علم و عدل کے سفیر بنے۔ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ ایک استاد محض معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ نسلوں کے مستقبل کا معمار ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے تعلیم کو محض معلومات دینے یا پیشہ ورانہ مہارت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انسانیت کی بنیاد بنایا۔ یہی اصل تعلیم ہے۔ آج کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ بڑے عہدوں پر پہنچ کر بھی اگر انسانیت سے خالی ہوں، تو علم موت کی فیکٹری میں بدل جاتا ہے۔یہی منظر آج غزہ اور فلسطین میں نظر آرہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تعلیم سے رحم و اخلاق نکل جائے تو وہ بم، میزائل اور ظلم کے آلات پیدا کرتی ہے، لیکن جب تعلیم انسانیت سے جڑی ہو تو وہ عدل، محبت اور زندگی کی حفاظت کا ذریعہ بنتی ہے۔
اس موقع پر ہمیں سوچنا ہوگا کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بنانا نہیں، بلکہ ایسے انسان پیدا کرنا ہے جو ظلم کے خلاف کھڑے ہوں اور زندگی کی حفاظت کریں۔ استاد کا اصل کام یہی ہے کہ وہ شاگرد کے دل میں علم کے ساتھ انسانیت بھی پیوست کرے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں یہی سبق ملتا ہے کہ اصل معلم وہ ہے جو انسان کو انسان کے قریب لائے، نہ کہ اسے موت کی مشین بنا دے۔
یومِ اساتذہ پر ہم اپنے ملک بھارت کے حالاتِ تعلیم پر بھی نظر ڈالیں۔ ہمارے یہاں آج بھی کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں تعلیمی ڈراپ آؤٹ ریٹ ابھی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دیہی علاقوں میں معیاری تعلیم کا فقدان ہے اور لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے بھی دور ہیں۔ دوسری طرف جنہیں تعلیم ملتی ہے، ان کے اندر محض ڈگریاں تو ہوتی ہیں لیکن کردار سازی اور سماجی شعور کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ کردار، تہذیب، تمدن، اخلاق، بڑوں کا ادب،چھوٹوں پر شفقت، بزرگوں کی قدر اور غرباء کا احترام یہ سب محض باتیں بن کر رہی گئی ہیں۔کیوں؟ اس لئے ہے کہ ہم نے تعلیم کو ملازمت کا ذریعہ تو سمجھ لیا ہے، انسان سازی کا ذریعہ نہیں سمجھا۔
یہاں ہمیں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے سبق لینا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘ یعنی آپ ﷺ کی بعثت ہی انسانیت کو علم اور شعور دینے کے لئے تھی۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ استاد کا حق باپ سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ استاد ہی اولاد کو زندگی کا مقصد سکھاتا ہے۔آج ضرورت ہے کہ ہم اساتذہ کے مقام کو صرف ایک دن کی تقریبات تک محدود نہ رکھیں۔ اساتذہ کا احترام ہر وقت اور ہر جگہ ہونا چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں یہ روش عام ہے کہ استاد کو محض نصاب پڑھانے والا فرد سمجھا جاتا ہے، حالانکہ استاد کردار سازی، سماج سازی اور قوم کی تقدیر سازی کرتا ہے۔ استاد ہی وہ چراغ ہے جو نسلوں کے لئے روشنی بنتا ہے۔
واضح رہے کہ ’’یوم اساتذہ ‘‘ کے موقع پر جب ہم اپنے تمام اساتذہ کرام کو عقیدت کے ساتھ یاد کرتے ہیںجن کی بدولت ہم آج اس مقام تک پہنچے ہیں تو اس کے ساتھ ہی اس موقع پر سب سے پہلے شیخ فاطمہ اور ساوتری بائی پھولے کا نام بھی آتا ہے۔ یہ حقیقی معنوں میں اساتذہ کہلانے کی حقدار ہیں۔کیوں کہ ان دونوں نے ایسے وقت میں تعلیم کا پرچم بلند کیا جب لوگ بچیوں کے گھر سے باہر نکل کر تعلیم حاصل کرنے کو عیب سمجھتے تھے۔
یوم اساتذہ کے موقع پر خاص طور پر تعلیمی اعتبار سے جو لوگ بچھڑ گئے ہیں ان کو ، ان کے رہنمائوں کو اور اساتذہ کو اس بات کا عہد کرنا چاہئے کہ وہ اپنے معاشرے میں تعلیم کو عام کریں گے۔ تعلیم کو گھر گھر تک اور خاص کرکے بچیوں تک پہنچائیں گے۔ہونہار طلباء کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کے لئے کوششیں کریں گے۔ طلباء کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ہم سب کو یوم اساتذہ کے موقع پر اساتذہ کا اعزاز و اکرام بھی کرنا چاہئے جو صحیح معنوں میں معاشرے اور ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔
بھارت کی سرزمین نے بہت ساری عظیم شخصیتوں کو دیکھا ،جنہوں نے اپنے ملک اور قوم وملت کیلئے بہت کچھ کیا انہیں میں سے ایک ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن بھی ہیں۔جن کی زندگی طالب علم اور استاد کے لیے نمونہ ہے کس طرح وہ اپنی محنت اور جدوجہد سے استاد کے عہدے سے صدر جمہوریہ کے عہدے تک پہنچے یہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے اور یوم اساتذہ انہیں کی مرہون منت ہے جو آج پورا بھارت جوش وخروش سے مناتا ہے۔ہم اس موقع پر تمام اساتذہ کرام کو سلام پیش کرتے ہیں۔
رہبر بھی، یہ ہمدم بھی، یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
اس موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ: تعلیم کو محض نوکری کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان سازی کا راستہ سمجھیں، طلبہ کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ عملی زندگی کے اخلاقی اصول بھی سکھائے جائیں، حکومت تعلیم پر اخراجات بڑھائے اور سب کو یکساں مواقع فراہم کرے اور سب سے بڑھ کر، استاد کے احترام کو معاشرے کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ اصل معلم وہ ہے جو علم کے ساتھ حکمت اور کردار بھی عطا کرے۔ اساتذہ کا احترام محض رسمی دنوں میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر لمحے میں ہونا چاہیے۔
آج یوم اساتذہ کے موقع پر اساتذہ کو صرف مبارکباد دینے یا ان کی عظمت بیان کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ خود اساتذہ کو بھی اپنا احتساب کرنا ہوگا۔ یہ سوچنا ہوگا کہ تعلیم میں وہ تاثیر اور اخلاقی طاقت کیوں کم ہوگئی جس نے کبھی دنیا کو روشنی عطا کی تھی؟ طلبہ کے کردار اور سماج کی تشکیل میں اساتذہ کا بنیادی کردار ہوا کرتا تھا ۔ اگر آج ہمارے معاشرے میں علم کے باوجود اندھیرا ہے، تو اس پر اساتذہ کو بھی غور کرنا ہوگا کہ کہاں کمی رہ گئی ہے۔ جب تک استاد اپنے کردار کو سنوارنے اور تعلیم کو انسانیت کے ساتھ جوڑنے کا عزم نہیں کریں گے، تب تک اصل مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔