نئی دہلی 27ستمبر: وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں ہفتہ (27 ستمبر) کو دو پہر 2 بجے سول سوسائٹی کی جانب سے منعقد ہونے والے ’ووٹر ادھیکار سمیلن‘ کو پولیس نے روک دیا۔ یہ پروگرام میداگن کے ’پراڑکر اسمرتی بھون‘ میں ہونا تھا۔ مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف یہ ’ووٹر ادھیکار سمیلن‘ منعقد کیا جانا تھا۔ اس انعقاد کا مقصد حال ہی میں بہار میں ہوئے اسپیشل انٹینسیو ریوژن (ایس آئی آر) پر بھی تبادلہ خیال کرنا تھا، جس پر کئی تنظیم اور سول سوسائٹی گروپ سوال اٹھا رہے ہیں۔پروگرام کے مقام پر پہنچے لوگوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے پروگرام کو یہ کہتے ہوئے رکوا دیا کہ اس کے لیے تھانے سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔ اس دوران پولیس نے ’پراڑکر اسمرتی بھون‘ کو بند کرا دیا اور باہر بیریکیڈنگ لگا دی۔ پروگرام کے مقام پر موجود ’ڈیموکریٹک چرخہ‘ کے سی ای او عامر عباس نے ’نوجیون‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موقع پر موجود ایس آئی نے انہیں کہا کہ اجازت نہ ہونے کی وجہ سے پروگرام کو روک دیا گیا ہے۔ لیکن بعد میں جب عامر عباس نے ڈی ایس پی ڈاکٹر اتل ترپاٹھی سے بات کی تو ڈی ایس پی نے دعویٰ کیا کہ بھون کے مالک نے خود ہی اپنی خواہش سے پرورگرام کو منسوخ کیا اور پولیس کو بلوایا۔ یہاں پر دونوں افسران کے بیانات میں واضح طور پر تضاد نظر آ رہا ہے۔ حالانکہ ’پراڑکر اسمرتی بھون‘ کے مالکوں اور پروگرام کے منتظمین نے اس معاملہ میں کوئی آفیشیل تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔









