بھوپال۔ خدمت پکھواڑہ مہم (17 ستمبر تا 2 اکتوبر 2025) کے تحت دیپالپور سب جیل میں اتوار کے روز منشیات کے انسداد کے موضوع پر ایک بامقصد و حوصلہ افزا شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام جیل انتظامیہ اور تحصیل لیگل سروسز کمیٹی دیپالپور کے مشترکہ زیرِ اہتمام منعقد ہوا۔ اس موقع پر دیپالپور کے رکنِ اسمبلی جناب منوج پٹیل بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے، جبکہ صدارت ضلعی جج اور کمیٹی کے صدر جناب ہدایت اللہ خان نے کی۔
تقریب کا آغاز مشاعرے سے ہوا جس میں بیٹما، گوتم پورہ اور دیپالپور کے معروف شعراء پنکج پراجاپتی، گوپال گَروِت، وکاس یادو اور شیام گوئل نے اپنی پراثر تخلیقات کے ذریعے قیدیوں کو منشیات ترک کرنے اور نئی راہ اپنانے کا پیغام دیا۔ ان کی ولولہ انگیز شاعری نے حاضرین کو خود احتسابی پر آمادہ کیا۔ اسی سلسلے میں ضلعی جج جناب ہدایت اللہ خان نے بھی اپنی نظم کے ذریعے جرم اور منشیات سے دور رہتے ہوئے ملک کی تعمیر میں حصہ لینے کی اپیل کی۔
مہمانِ خصوصی رکنِ اسمبلی منوج پٹیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ سماج میں ہونے والے زیادہ تر جرائم نشے کی حالت میں سرزد ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسان منشیات سے دور رہے تو وہ نہ صرف جرائم سے بچ سکتا ہے بلکہ خاندان اور سماج کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ جناب پٹیل نے قیدیوں سے اپیل کی کہ رہائی کے بعد وہ نشے اور جرائم سے توبہ کر کے ذمہ دار شہری بنیں اور خاندان، سماج و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
اس موقع پر اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ آر ایس کُشواہ نے شکریہ ادا کیا۔ جیل انتظامیہ اور تحصیل لیگل سروسز کمیٹی کی جانب سے شعراء کو تمغوں سے نواز کر اعزاز بھی پیش کیا گیا۔تقریب میں ایس ڈی او پی دیپالپور سنگھ پریہ سمرات، ٹاؤن انسپکٹر رنجیت سنگھ بگھیل، اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ آر ایس کُشواہ، ایڈووکیٹس ایسوسی ایشن دیپالپور کے صدر سی ایل پٹیل، سیکریٹری پون جوشی، اے ڈی پی او وکرم راو، ایش رام، انتر سنگھ سمیت سینئر وکلاء—راجندر پٹیل، اے ایس موریہ، بی آر پٹیل، ایم ڈی بیراغی، پرکاش پٹیل، کیلاش چودھری اور چیتن راتھور موجود رہے۔اسی طرح چیف گارڈ رامیشور جھاڑیا، سینئر گارڈ سہزاد حسین، گارڈ وِویک شرما، خواتین گارڈ ایکتا پٹیل اور آرتی سولیّا، میلنرز شوانی سریواستو، ٹیکنیکل اسسٹنٹ اندل رائے، نائب ناظر دلیپ یادو اور آردیشیکا واہک مکیش کھتری سمیت پورا جیل اسٹاف اور بڑی تعداد میں قیدی شریک ہوئے۔
اس شعری نشست نے نہ صرف ادبی فضا کو جنم دیا بلکہ قیدیوں کی زندگی میں نئی سوچ اور مثبت توانائی پیدا کرنے کی ایک بامعنی کوشش بھی کی۔