نئی دہلی 11فروری: لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج ایوانِ زیریں میں بجٹ سے متعلق اپنی آراء پیش کرنے کے دوران مودی حکومت پر سخت ترین حملے کیے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ، ایپسٹین فائل اور ہندوستانی نوجوانوں کی بے روزگاری سمیت کئی اہم مسائل سامنے رکھے۔ لوک سبھا میں کی گئی ایک تقریر کی ویڈیو راہل گاندھی نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بنگلہ دیش نے نفع بخش تجارتی معاہدہ کیا ہے، جبکہ ہندوستان کو خسارہ ہی خسارہ ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کا منفی اثر ٹیکسٹائل سیکٹر پر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ٹیکسٹائل کی ریس میں ہندوستان 18 فیصد ٹیرف کی بیڑیوں میں دوڑے گا اور بنگلہ دیش 0 فیصد کے کھلے میدان میں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’وزیر اعظم (مودی) کا ٹرمپ کی شرائط کے سامنے سرینڈر کا اعلان، ہندوستانی ٹیکسٹائل کے لیے موت کا فرمان ہے۔ کیا ہم ریس شروع ہونے سے پہلے ہی پیچھے نہیں چھوٹ رہے؟‘‘ راہل گاندھی نے اس سے قبل بھی ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جو آج لوک سبھا میں مکمل تقریر پر مبنی ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ نے 140 کروڑ ہندوستانیوں کا مستقبل گروی رکھ دیا ہے۔ نوجوانوں کے روزگار داؤ پر، کسانوں کی فصل سمجھوتے کی میز پر، اور توانائی سیکورٹی بیرون ملکی شرطوں پر!‘‘ اس معاہدہ کو راہل گاندھی نے شدید دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’کوئی وزیر اعظم بغیر بھاری دباؤ کے ایسے گھٹنے نہیں ٹیکتا۔ ہندوستان سمجھتا ہے… یہ معاہدہ برابری کا نہیں، مجبوری کا ہے۔‘‘ اس پوسٹ میں راہل گاندھی نے ’ایپسٹین فائلز‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ایپسٹین فائلز سے ہو یا اڈانی کیس سے، مودی جی نے اپنا اقتدار بچانے کی قیمت قومی مفادات سے ادا کی ہے۔‘‘