نئی دہلی 9جنوری: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستانی سامانوں پر ٹیرف بڑھانے کی نیت کئی بار ظاہر کر چکے ہیں۔ وہ مستقل کہتے بھی رہے ہیں کہ روس سے تیل خریدنے کی وجہ سے انھوں نے ہندوستانی سامانوں پر بھاری ٹیرف لگایا ہے۔ اس وقت ہندوستان پر 50 فیصد ٹیرف کا نفاذ ہے۔ اب ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے فون نہ کرنے کی وجہ سے ٹرمپ کی انا کو ٹھیس پہنچی ہے۔ امریکہ کے وزیر برائے کامرس ہاورڈ لٹنک نے بتایا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ اس لیے نہیں ہو پایا، کیونکہ وزیر اعظم مودی نے ڈونالڈ ٹرمپ کو فون نہیں کیا۔ اس معاملے میں کانگریس نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ سے ہندوستان کا تجارتی معاہدہ نہ ہونے کے ذمہ دار صرف اور صرف وزیر اعظم مودی ہیں۔ آج بی جے پی اور مودی حامی امریکی کامرس سکریٹری کی آدھی ادھوری بات سن کر خوش ہو رہے ہیں، لیکن پورا سچ ملک مخالف حرکت کا ثبوت ہے۔‘‘ کانگریس نے مزید کہا کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ مودی ٹرمپ کو فون کرنے سے جھجک رہے تھے، اس لیے ٹریڈ ڈیل نہیں ہوپائی۔ حالانکہ 3 ہفتہ بعد ہی مودی اور ان کی حکومت بات کرنے کو راضی ہوئے، لیکن تب تک بہت تاخیر ہو چکی تھی۔‘‘ کانگریس نے یہ تبصرہ اپنے سوشل میڈیا ہینڈل ’ایکس‘ پر کیا ہے۔ اس اہم اپوزیشن پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’مودی کو جب خود کا پی آر کرنا تھا تب تو سامنے سے فون کیا، لیکن جب بات ملک کی آئی تو آنا کانی کرنے لگے۔‘‘ کانگریس نے یہ بات بھی یاد دلائی کہ ’’امریکہ ’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘ کے اصول کے تحت ٹریڈ ڈیل کر رہا ہے۔









