نئی دہلی، 29 جولائی (یو این آئی) وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی عالمی تنظیم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کمیٹی کے وائس چیئرمین کے طور پر پاکستان کی تقرری کا موازنہ ’ دودھ کی رکھوالی بلی کو دینے‘ سے کیا ہے۔مسٹر سنگھ نے پاکستان کو عالمی مالیاتی امداد کے جواز پر بھی یہ کہتے ہوئے سوال اٹھائے کہ پاکستان کو باہر سے ملنے والی مالی امداد کا بڑا حصہ ’وہاں دہشت گردی کے کارخانوں‘ کو جاتا ہے۔ مسٹر سنگھ نے اپریل میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان کے فوجی دستوں کی جانب سے پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لئے چلائے گئے آپریشن سندور پر راجیہ سبھا میں 16 گھنٹے کی تفصیلی بحث کی شروعات کرتے ہوئے یہ بات کہی۔انہوں نے دنیا کی توجہ پاکستان کے کئی ممالک میں سرگرم اسامہ بن لادن اور دیگر دہشت گرد لیڈروں کو دی جانے والی پناہ گاہوں اور وہاں سے دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے ان کی سرگرمیوں کی طرف مبذول کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی نائن الیون (نیویارک کے دہشت گرد حملے) کے بعد بنائی گئی تھی اور اس لیے ’پاکستان جیسے ملک کو اس کمیٹی کا وائس چیئرمین بنانا ایک ظالمانہ مذاق سے کم نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نجات کے بعد ہی دنیا امن اور ترقی کی جانب گامزن ہو سکے گی جبکہ ’پاکستان میں دہشت گردی ایک کاروبار بن چکی ہے اور اس کی پشت پر کئی بیتال بیٹھ گئے ہیں جو اسے ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہونے دے رہے۔‘وزیر دفاع نے کہا کہ دنیا سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے اور اس کے لیے پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرسکتا تو ہندوستان اس کی مدد کرسکتا ہے۔







