نئی دہلی 23نومبر: افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارت تقریباً بند ہو چکی ہے۔ اس دوران طالبان کا جھکاؤ ہندوستان کی طرف بڑھ گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت مسلسل رفتار پکڑ رہی ہے۔ ہندوستان کو اپنا سامان بیچ کر افغانستان کافی مالامال ہورہا ہے۔ ٹولو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کی وزارتِ صنعت و تجارت نے بتایا کہ گزشتہ سات ماہ میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت 525 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مجموعی تجارت میں سب سے بڑا حصہ افغانستان کی برآمدات کا رہا، جو 379 ملین ڈالر یعنی تقریباً 34 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ یعنی ہندوستان میں افغان خشک میوہ جات اور روایتی زرعی مصنوعات کی ڈیمانڈ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ افغانستان کی وزارت کے ترجمان اخوندزادہ عبدالسلام جواد کے مطابق ہندوستان کو بھیجے جانے والی اہم برآمدات میں خشک انجیر، زعفران، ہینگ اور اس کے بیج، کشمش، زیرہ، پستہ اور بادام جیسے آئٹمز شامل ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کا استعمال ہندوستان کے تقریباً ہر گھر میں ہوتا ہے۔ ان تمام کی ہندوستان میں بڑی مارکیٹ ہے، خاص طور پر تہواروں اور پریمیم غذائی مصنوعات میں۔ وہیں افغانستان ہندوستان سے بنیادی طور پر دوائیاں، صنعتی فیکٹریوں کے لیے خام مال، مشینری، کاٹن کے کپڑے، آٹو پارٹس اور تیار شدہ کپڑے درآمد کرتا ہے۔ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان خشک میوہ جات، زعفران اور دستکاری کے سامان کی تجارت طویل عرصے سے مضبوط تجارتی کڑی رہی ہے۔









