دبئی، 16 ستمبر (یو این آئی) کرکٹ اکثر اُس وقت سب سے زیادہ سنسنی خیز ہوتا ہے جب ایک ٹیم اپنی کھوئی ہوئی لَے دوبارہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہو اور دوسری ٹیم یہ ثابت کرنے پر تُلی ہو کہ وہ بھی اسی بڑے اسٹیج کی حقدار ہے۔
سلمان آغا کی قیادت میں پاکستان کل دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ایشیا کپ 2025 کے دسویں میچ میں متحدہ عرب امارات سے ٹکرانے کے لئے تیار ہے۔
پاکستان چند زخمی کھلاڑیوں کے ساتھ یہاں پہنچا ہے۔ ان کے گیند باز نظم و ضبط اور اختراعی انداز میں کھیل رہے ہیں، لیکن ہندوستان کے خلاف بلے بازوں کا ایک شاندار آغاز کے باوجود 127 رنز پر نو وکٹیں گرا دینا قابل اعتراض ہے۔ یہ میچ ان کے بلے بازوں کو یہ دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ایک خراب کارکردگی پورے ٹورنامنٹ کو بیاں نہیں کرتی۔
صائم ایوب ٹاپ آرڈر میں متوازن نظر آئے ہیں، اور صاحبزادہ فرحان نے دباؤ والے میچوں میں پرسکون مظاہرہ کیا ہے۔ جارحانہ کھلاڑی فخر زمان جانتے ہیں کہ ٹیم کو ایک مستحکم آغاز کے بعد صاف اور بھرپور اسٹروکس کی ضرورت ہے۔
نئے کپتان سلمان آغا کو درمیانی اوورز میں اننگز کو سنبھالنا ہوگا۔ حسن نواز، محمد حارث اور محمد نواز کے پاس ایسے اسٹروکس ہیں جو اگر انہیں مناسب پلیٹ فارم مل جائے تو اسکور کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھا سکتے ہیں۔
گیند بازی میں پاکستان خاصا طاقتور ہے۔ شاہین آفریدی کی بائیں ہاتھ کی تیز گیندبازی کسی بھی ٹاپ آرڈر کو پریشان کر سکتی ہے، اور حارث رؤف کا ڈیتھ اوورز میں کنٹرول بے حد اہم ہے۔ ابرار احمد کی لیگ اسپن ورائٹی دیتی ہے اور نوجوان صائم ایوب کی اسپن نے انہیں اس مقابلے میں پانچ وکٹیں دلوائی ہیں، یہ ایک متوازن ٹیم کے لئے حوصلہ افزا اشارہ ہے۔
دوسری طرف، یو اے ای عمان کو 42 رنز سے ہرانے کے بعد بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں ہے۔ ان کے کپتان محمد وسیم نے 54 گیندوں پر 69 رنز کی اننگز کھیل کر طاقتور مظاہرے کا ثبوت دیا۔ علی شان شرفو نے شاندار نصف سنچری بنائی، اور آصف خان، جو اپنے شاٹس کھیلنے میں لطف لیتے ہیں، ان کی بیٹنگ کو گہرائی بخشتے ہیں۔
دبئی کی حالت دونوں ٹیموں کا سخت امتحان لیں گی۔ روشنی میں پچ فاسٹ بولرز کے لئے مددگار ہوتی ہے لیکن بیٹنگ بھی آسان ہو جاتی ہے۔ درمیانی اوورز میں اسپنرز کا کردار اہم ہوگا۔ شام کے وقت شبنم پڑنے سے بیٹنگ مزید سہل ہو سکتی ہے، اس لئے ٹاس جیتنے والی ٹیم کے پہلے بالنگ کرنے کے امکانات ہیں۔ 170-180 کے قریب کا اسکور پہلے بلے بازی کرنے والی ٹیم کو مقابلے میں موقع دے سکتا ہے۔
پاکستان کے لئے یہ صرف پوائنٹس ٹیبل کی بات نہیں ہوگی یہ لَے اور اعتماد کی بحالی کی بات ہے۔ یو اے ای کے لئے یہ ہنر اور جذبے کا امتزاج ہے اور جتنا ممکن ہوسکے مقابلے میں قائم رہنا ہوگا۔ کسی بھی ٹیم کے لئے اچھی شروعات فوری طور پر توازن کو بدل سکتی ہے۔









