حیدرآباد 26ستمبر:آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ کسی مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ سے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبت نہ کرے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر اتر پردیش کی حکومت دنیا کو یہ کیا پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ ایسے پوسٹرز پر اعتراض کر رہی ہے جن میں محض محبت کا اظہار ہے۔ جمعہ کے روز بہار کے پورنیہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ’’آئی لو پروفیٹ محمد ﷺ‘‘کے پوسٹرز میں کچھ بھی ’’ملک دشمن‘‘ نہیں ہے اور اگر کوئی نعرہ محبت کو فروغ دیتا ہے تو کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ جب ایک رپورٹر نے ان سے پوچھا کہ کچھ ہندو تنظیموں نے اس تنازع کے جواب میں ’’آئی لو مہادیو‘‘ مہم شروع کی ہے تو اس پر اویسی نے کہا کہ اس میں بھی کوئی برائی نہیں ہے۔ اس دوران انہوں نے رپورٹر سے اس کا نام پوچھا، جس نے جواب دیا ’’اشمیت‘‘ ، اویسی نے فوراً کہا :’’میں کہوں گا آئی لو اشمیت۔ اس میں کیا غیر ملکی یا ملک دشمن بات ہے؟ اس سے تشدد کیسے پھیلتا ہے؟ اگر لفظ ’محبت‘ ہے تو پھر کسی کو مسئلہ کیوں ہونا چاہیے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ محبت کے خلاف ہیں، آپ محبت پر یقین نہیں رکھتے۔ میرے خیال میں ہمیں ان لوگوں کے لیے فلم مغلِ اعظم کا گانا ’محبت زندہ باد‘ بجانا چاہیے۔‘‘ یاد رہے کہ جب 4 ستمبر کو بارہ فات جلوس کے دوران کانپور کی ایک سڑک پر ’’آئی لو محمد‘‘ کے بورڈز لگائے گئے تھے۔ اس پر ہندو تنظیموں نے اعتراض کیا اور اسے ’’نیا رجحان‘‘ اور ’’جان بوجھ کر اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیا۔ 9 ستمبر کو پولیس نے اس معاملے میں 9 افراد اور 15 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔
اویسی نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’ آئی لو محمد کہنا جرم نہیں ہے‘‘۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیا جس میں مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ کسی مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ نبی کریم ﷺ سے دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر محبت نہ کرے۔ آپ دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اس پر اعتراض کر کے؟‘‘ اویسی نے یوپی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکام جانبدارانہ پابندیاں لگا رہے ہیں۔ ’’ یوپی میں اے ڈی جی پی کہہ رہے ہیں کہ نئے پوسٹرز نہیں لگائے جائیں گے، لیکن ’ہیپی برتھ ڈے پرائم منسٹر‘ یا ’ہیپی برتھ ڈے چیف منسٹر‘ کے پوسٹرز لگائے جا سکتے ہیں۔ پھر ایسا قانون بنا دیں کہ اس ملک میں کوئی محبت کا ذکر ہی نہ کرے۔‘‘
عمر عبداللہ کی حمایت

دوسری جانب، جموں و کشمیر کے چیف منسٹر عمر عبداللہ نے بھی ’’آئی لو محمدﷺ ‘‘ کہنے کے حق میں آواز بلند کی اور کہا کہ تین الفاظ ’’آئی لو محمد‘‘ کو غیر قانونی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟

انہوں نے کہا : ’’یہ لکھنے پر کس کو اعتراض ہونا چاہیے؟ ان تین الفاظ پر کس کو مسئلہ ہے؟ میں سمجھ نہیں پا رہا کہ ان تین الفاظ پر کیس درج کیسے ہو سکتا ہے۔ کوئی واقعی ذہنی طور پر بیمار ہی ہو سکتا ہے جو اس پر مقدمہ درج کرائے۔ عدالتوں کو چاہیے کہ جلد از جلد اس غلطی کو درست کریں۔‘‘
اشتہار

عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ الفاظ ایک خاص مذہب سے جڑے ہیں لیکن اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اپنے دیوی دیوتاؤں یا گروؤں سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’ کیا دوسرے مذاہب کے لوگ اپنے دیوی دیوتاؤں کے نام نہیں لکھتے؟ کیا ہمارے سکھ بھائی اپنے گروؤں کے بارے میں نہیں لکھتے؟ کیا ہمارے ہندو بھائی اپنے بھگوانوں کے بارے میں نہیں لکھتے؟ بالکل لکھتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے باہر چلے جائیے، وہاں آپ کو بمشکل ہی کوئی ایسی گاڑی ملے گی جس پر کسی دیوتا کی تصویر نہ لگی ہو۔ اگر یہ غیر قانونی نہیں ہے تو پھر’ آئی لو محمد‘ کیسے غیر قانونی ہے؟‘‘
اشتہار

Whatsapp
Facebook
Telegram
Twitter

نیوز18اردو ہندوستان میں اردو کی سب سے بڑی نیوز ویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ برائے مہربانی ہمارے واٹس چینل کو لائیو، تازہ ترین خبروں اور ویڈیوز کے لئے فالو کریں۔آپ ہماری ویب سائٹ پر خبروں، تصاویر اور خیالات کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ، کرکٹ جیسے کھیلوں اور لائف اسٹائل سے منسلک مواد دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ہمیں، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز،شیئرچیٹ، ڈیلی ہنٹ جیسے ایپس پر بھی فالوکرسکتے ہیں۔
Tags: assaduddin owaisi

First Published : September 26, 2025, 7:11 pm IST