بھوپال، 10 اکتوبر(پریس ریلیز) عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر پریورتن مارگ (Parivartan Marg) کی جانب سے کوہِ فضا، ناز انکلیو میں Storytelling & Mental Health Expressions Session کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد ذاتی تجربات اور کہانیوں کے ذریعے ذہنی صحت کے تئیں بیداری پیدا کرنا اور لوگوں کو اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا تھا۔نشست میں مقررین نے زندگی کی جدوجہد، اپنوں کو کھونے کے غم، سماجی دباؤ، تعلیمی مشکلات، صنفی امتیاز اور جذباتی صحت سے متعلق اپنے تجربات پیش کیے۔قدسیہ سلطان صدیقی نے کم عمری میں اپنے کئی عزیزوں کو کھونے کے بعد خود اعتمادی اور خود انحصاری کے ساتھ زندگی میں آگے بڑھنے کی اپنی داستان بیان کی۔ اکشَت نے ضرورت سے زیادہ سوچنے سے بچنے، خود کو نئی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے اور لوگوں و حالات کو سمجھ داری سے سنبھالنے کی اہمیت پر بات کی۔ریسرچ اسکالر ندا متین نے ذہنی صحت کو محض تعلیم یا خاندانی زندگی پر توجہ دینے تک محدود سمجھنے کے نظریے پر سوال اٹھاتے ہوئے ماہرین کی مدد اور ذہنی صحت کو جسمانی صحت کے برابر اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
آشش شاکیہ نے تعلیمی دباؤ، سماجی تبصروں اور ڈپریشن سے نبرد آزما ہونے کا اپنا تجربہ بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح “Never Give Up” کے پیغام نے انہیں مشکل دور سے نکلنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ وہیں *ناز بی* نے کم عمری میں بیوہ ہونے، دوسری شادی سے جڑے سماجی حالات اور اپنے بچے کے مستقبل سے متعلق درپیش چیلنجز پر گفتگو کی۔شرنگا شریواستو نے اپنی نظم کے ذریعے بچپن کی بے چینی، رنگ و روپ پر ہونے والے تبصروں اور جسمانی ساخت کی بنیاد پر مذاق اڑانے کے جذباتی اثرات کو پیش کیا۔ عالیہ خان نے نوعمری میں عوامی مقام پر پیش آنے والے ایک ناخوش گوار واقعے کا ذکر کرتے ہوئے خواتین کی حفاظت سے متعلق مسائل کو اجاگر کیا۔اینا چھابڑیا نے عالیہ کے تجربے کے تناظر میں مردوں اور خواتین کے جذبات کے اظہار کے مختلف طریقوں اور ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی ضرورت پر اپنے خیالات پیش کیے۔ *یوگیتا بھارتی* نے والد کو کھونے اور ملازمت سے متعلق مشکلات کے کٹھن دور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مشکل وقت میں ساتھ دینے والے لوگوں کا تعاون کس قدر اہم ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ندھی ساہو نے خود شناسی کا پیغام دیا:
پروگرام کی مہمانِ خصوصی مقرر ڈاکٹر ندھی ساہو نے خود احتسابی، خود پر شفقت اور اپنے تئیں حساس رویہ اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا:
”سوال کتنے ہی ہوں، جواب ہمیشہ اندر ہی ملے گا۔ اگر زندگی میں کوئی سرا کہیں گم ہو گیا ہے، تو اسے ڈھونڈنا ہے، سراہنا ہے اور تراشنا ہے۔“پروگرام کی نظامت انکیتا ڈے نے کی، جبکہ اختتام پر ثنا اظہر نے تمام مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔اس پروگرام کے انعقاد میں ثنا اظہر، انکیتا ڈے، ندا متین، دعا متین، زبیر اختر اور اورنگزیب اعظم نے اہم کردار ادا کیا۔پریورتن مارگ کی اس پہل نے یہ پیغام دیا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے ایک حساس معاشرہ تشکیل دینے کے لیے لوگوں کی بات سننا، ان کے تجربات کو سمجھنا اور بغیر کسی تعصب کے انہیں قبول کرنا ضروری ہے۔









