نئی دہلی30جولائی:’’سب کو معلوم ہے کہ کیا ہوا ہے اور وزیراعظم بول نہیں پا رہے ہیں۔ اگر وہ بولیں گے تو ٹرمپ کھل کر سچ بول دیں گے۔ اسی لیے وہ خاموش ہیں۔ ٹرمپ بار بار ایک ہی بات اس لیے دہرا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں تجارت کے کسی معاہدے میں نریندر مودی کو دبایا جا سکے۔ آپ دیکھنا، کیسی ٹریڈ ڈیل بنتی ہے۔‘‘ یہ بیان آج صبح کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے پارلیمانی احاطہ میں میڈیا کے سامنے دیا تھا، اور شام ہوتے ہوتے ان کی یہ بات سچ ثابت ہو گئی۔ ٹرمپ نے پی ایم مودی سے دوستی کا خیال نہ رکھتے ہوئے 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد کانگریس پی ایم مودی پر حملہ آور دکھائی دے رہی ہے۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کئی پوسٹ کیے ہیں جس میں پی ایم مودی پر طنزیہ حملے کیے گئے ہیں۔ ایک پوسٹ میں پی ایم مودی کی آنکھوں پر لگے چشمہ میں دِل کا نشان بنا ہوا ہے، اور دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کر رہے ہیں۔ اس پوسٹ کے ساتھ لکھا گیا ہے ’’دوست نے 25 فیصد کا چونا لگایا۔‘‘
ایک دیگر پوسٹ میں راہل گاندھی کے صبح والے بیان اور پھر شام میں ٹرمپ کے ذریعہ 25 فیصد ٹیرف کے اعلان کی خبر کو دکھایا گیا ہے۔ اس پوسٹ کے ساتھ لکھا گیا ہے ’’ایک بار پھر صحیح ثابت ہوئے راہل گاندھی۔‘‘ کانگریس نے ایک دیگر سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ٹرمپ نے ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف ٹھوک دیا، ساتھ ہی پنالٹی بھی لگا دی۔ نریندر مودی کی ’دوستی‘ کا خمیازہ ملک بھُگت رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی پی ایم مودی پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’’مودی نے ٹرمپ کی تشہیر کی، لپک لپک کر گلے ملے، تصویر کھنچوا کر سوشل میڈیا میں ٹرینڈ کرایا… آخر میں ٹرمپ نے ہندوستان پر ٹیرف ٹھوک دیا۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔