یکم نومبر بھارت کی تاریخ میں اس اعتبار سے بڑا دن ہے کہ اسی تاریخ کو مختلف علاقوں کے انضمام کے بعد نئی شکل میں مدھیہ پردیش وجود میں آیا۔ یہ ریاست نہ صرف جغرافیائی طور پر مرکز میں ہے بلکہ ثقافتی تنوع، اس کی قدرتی چیزیں اور آبادی کے اعتبار سے بھی ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ آج اس میں کروڑ سے زیادہ شہری آباد ہیں اور بھوپال بطور دارالحکومت اس ریاست کا انتظامی اور فکری مرکز مانا جاتا ہے۔بھوپال کا ذکر مدھیہ پردیش کے بغیر اور مدھیہ پردیش کا ذکر بھوپال کے بغیر ادھورا ہے۔ اس شہر کی تاریخ برصغیر میں ایک منفرد مثال رکھتی ہے۔ نوابینِ بھوپال خصوصاً بیگمات کے دور میں یہاں ایسے اصلاحی اقدامات کیے گئے جنہوں نے ریاست کی ترقی کا رخ متعین کیا۔ نواب سلطان جہاں بیگم نے تعلیم کے فروغ، خواتین کی خود مختاری، عوامی صحت اور جدید نظم و نسق کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آج بھی بھوپال کے کئی ادارے ان اصلاحات کی زندہ یادگار ہیں، مگر افسوس کہ نئی نسل اپنے انہی محسنوں سے غافل ہوتی جا رہی ہے۔
ریاستی ترقی کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ شہری ترقی اور انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے ضرور سامنے آ رہے ہیں، لیکن تعلیم ، صحت جیسے بنیادی شعبے میں وہ پیش رفت نہیں ہو پا رہی جس کی شدید ضرورت ہے۔اس کے علاوہ بے روزگاری اور مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ شہروں میں ہوٹلوں اور تفریحی مراکز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں معیاری تعلیمی اداروں کی کمی ایک فکری زوال کا پتہ دیتی ہے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں اب بھی ہزاروں بچے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ الغرض مدھیہ پردیش دیگر دوسروں سے بھی لگاتار پچھڑتا جا رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ مدھیہ پردیش کی پہچان گنگا جمنی تہذیب ہے۔ ہندو مسلم اتحاد کا علمبردار اور امن کا گہوارہ ہرہا ہے۔ یہ ریاست ہمیشہ اتحاد، مشترکہ تہذیب اور باہمی احترام کی علامت رہی ہے۔ مسلمان، دلت اور دیگر پسماندہ طبقات نے یہاں کی سیاست، تہذیب، صنعت اور قومی تعمیر میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں کچھ ایسے واقعات بڑھے ہیں جنہوں نے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور اقلیتوں کے اندر عدم تحفظ کے احساس کو جنم دیا۔ ایسی صورتِ حال ہمارے آئین کی روح اور اس ریاست کی بنیادی فکر دونوں کے منافی ہے۔بھوپال کے تاریخی ورثے کی بات کی جائے تو یہ شہر ایسی عمارتوں اور آثار کا امین ہے جو صرف ماضی کی یادگاریں نہیں بلکہ شناخت اور تہذیبی وقار کی علامت ہیں۔ مگر ان میں سے کئی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیںجن میں نواب دوست محمد خان کا مقبرہ، تاج محل بھوپال، بے نظیر ہاکی گرائونڈ وغیرہ شامل ہیں۔
اگر یہ ورثہ محفوظ نہ رہ سکا تو آنے والی نسلیں اس بات سے ناواقف رہیں گی کہ بھوپال کبھی علم و تمدن کا روشن مرکز تھا۔
یکم نومبر کا یہ دن محض تقاریب اور رسمی بیانات کا دن نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دن سوال اٹھانے، جائزہ لینے اور اپنے سیاسی و سماجی رویوں کا احتساب کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ ریاست کی تشکیل کے وقت جو وعدے مساوات، انصاف، تعلیم، روزگار اور انسانی اقدار کے ساتھ کیے گئے تھے، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ آج ہم ان وعدوں پر کہاں کھڑے ہیں۔ ترقی کا اصل پیمانہ وہی ہے جس میں ہر شہری کو عزت و سلامتی کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔

مدھیہ پردیش کی ترقی اور بھوپال کی شناخت اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب ریاستی پالیسیاں تعلیم کو اولین ترجیح دیں، ورثے کے تحفظ کو ذمہ داری سمجھا جائے، اقلیتوں سمیت ہر طبقے کو برابری کے حقوق دیے جائیں اور مشترکہ تہذیب کو زندگی کے ہر شعبے میں مضبوط کیا جائے۔ ریاستیں سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں، اپنے لوگوں کی خوشحالی سے بنتی ہیں۔ یکم نومبر ہمیں یہی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آنے والی نسلوں کو ہم کیسا مدھیہ پردیش دینا چاہتے ہیں۔ ایک ایسا جو صرف نقشے پر بڑا ہو یا ایک ایسا جو دلوں میں بھی بڑا مقام رکھتا ہو۔ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا۔