آج کل بھاجپا کے لیڈران کو فکر لاحق ہے کے ہندوستان میں ہندو خطرے میں ہے ۔ بھاجپا لیڈران اپنی اس بے بنیاد سوچ و فکر کو اعلانیہ ریلیوں میں ، انٹرویوز میں اور اپنی سیاسی تقریروں میں دہراتے رہتے ہیں ۔ خاص کر یوپی کے وزیر اعلی سب سے زیادہ فکرمند نظر آتے ہیں ۔ وہ بار بار کہتے ہیں کے دو ہزار سینتالیس میں ہندوستان میں ہندو اقلیت میں آجائے گے ۔ اسلئے وہ ہندوؤں کو مشورہ دیتے ہیں کے زیادہ بچے پیدا کریں ۔ اسی لئے مہاراشٹر کے اسمبلی چناؤ کے وقت انہوں نے نعرہ دیا تھا بٹو گے تو کٹو گے ۔ وزیراعظم نے گراہ لگائی تھی ایک رہوگے تو سیف رہو گے ۔ آج کل پھر سے وزیر اعلی ہندوؤں جھنجھوڑ رہے ہیں کے ہندو دو ہزار سینتالیس میں اقلیت میں آجائے گے ۔ اسلئے زیادہ بچے پیدا کرو ۔ جناب کی فکر کی وجہ ہے بہار کے چناؤ ۔ جب بھی کسی صوبے یا ملک میں چناؤ قریب آتے ہیں بھاجپا کے رہنماؤں کو ہندو خطرے میں نظر آتے ہیں ۔ اور بھاجپا رہنما ہنوؤں کو ہندو خطرے میں ہے کہہ کر ورغلانے لگتے ہیں ۔ماحول کو گرمانے لگتے ہیں ۔ جناب کی اس بے سر پیر کی سوچ پر میں نے غور وفکر کیا تو جو بات میری سمجھ میں آئی ان کی بہت گہری فکر اور گہری سوچ کی پیچھے کیا ہے ۔ پچھلے ساٹھ سالوں سے منصوبہ بندی اسکیم چلائ جارہی ہے ۔ منصوبہ بندی اسکیم کے باوجود ہندوستان میں ہندؤں کی آبادی ایک سو کروڑ سے زیادہ ہے ۔ جو کسی حال میں بائیس سالوں بعد اقلیت میں نہیں آسکتی ہاں گھٹ کر اسی کروڑ ضرور ہوجائے گی ۔ جبکہ مسلمانون کی آبادی بھی گھٹ کر اٹھارہ کروڑ ہوجائے گی ۔ پھر جناب کو یہ بے بنیاد فکر کیوں لاحق ہے کے ہندو خطرے میں ہے۔ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں ۔ آج ہندوستان کا ہر پڑھا لکھا ہندو ایک یا دو بچوں سے زیادہ بچے پیدا نہیں کررہا ہے ۔ ان کے بچے پڑھنے لکھنے میں مصروف رہتے ہیں ۔
سیاست دانوں کے زیادہ تر بچے ملک سے باہر پڑھتے ہیں ۔ میڈل کلاس کے بچے بھی پڑھ لکھ کر نوکری کرنا چاہتے ہیں ۔ ملک کا تیسرا طبقہ جو غریب کہلاتا ہے ۔ روٹی روزی اور کم آمدنی کے چکر میں پڑھ نہیں پاتا ۔ بے روزگاری اس طبقے کا مقدر ہے ۔ وہ بھی اب سمجھدار ہوگئے ہیں اور غربت سے بچنے کے لئے ایک یا دو بچوں سے زیادہ بچے پیدا نہیں کر رہے ہیں ۔ یعنی انکی آبادی ملک میں سکڑ رہی ہے تو بھاجپا کے لیڈران خاص کر یوپی کے وزیر اعلی کی فکر بجا لگتی ہے کیونکہ یہ غریب طبقہ کم ہوگیا تو گھنٹوں لائن میں کھڑے ہوکر بھاجپا کو ووٹ کون دے گا ۔ جے شری رام کا نعرہ لگا کر مذہبی انماد کون پھیلائے گا ۔ دنگا فساد کرکے مذہبی ماحول کو کون گر مائے گا ۔ مرے گا کون کٹے گا کون ۔؟
سیاست دانوں کی اولادیں تو کبھی سڑکوں پر اترتی نہیں ہے ۔ میڈل کلاس بھی اپنے بچوں کو زہر آلود سیاست سے اچھوت رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ۔ سیاست کا سارا دارومدار غریب طبقے کی بیروزگاری ، بیچارگی اور بیوقوفی پر منحصر ہے ۔ اگر ان کی آبادی اسی طرح سکڑتی رہی تو بھاجپا کے اقتدار کا کیا ہوگا ۔سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ۔ مستقبل اور اقتدار کی فکر یہ سوچنے اور کہنے پر مجبور کررہی ہے کے ہندو خطرے میں ہے ۔ ہندو نہیں اقتدار خطرے میں ہے ۔ بات سیدھی اور سمجھنے کی ہے اور احتیاط کرنے کی ہے ۔ڈاکٹر رونق جمال (درگ چھتیس گڑھ )









