ممبئی 11فروری: اجیت پوار کے طیارہ حادثہ کے متعلق اٹھ رہے کئی طرح کے سوالوں کے درمیان ان کے بھتیجے روہت پوار نے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے دہلی پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’میرے چچا اجیت دادا کی موت طیارہ حادثے میں ہو گئی تھی، بہت سی باتیں کہی جا رہی ہیں۔ ہمیں کچھ شک ہے اس لیے ہم نے ایک پریزنٹیشن تیار کیا ہے۔‘‘ اس سے قبل انہوں نے منگل (10 فروری) کو ممبئی میں پریس کانفرنس کر ماہر ایجنسیوں کے ذریعہ اس حادثے کی تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ روہت پوار نے کہا تھا کہ ’’پورا مہاراشٹر سوال کر رہا ہے کہ اجیت دادا کا ’طیارہ حادثہ‘ ایک حادثہ تھا یا کوئی سازش؟ میں آپ سب کے ساتھ وہی شیئر کر رہا ہوں جو میں محسوس کر رہا ہوں۔ کچھ لوگ اب بھی دادا کے کہیں سے آنے کی امید کر رہے ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ ایئرکرافٹ میں 6 لوگ تھے، وہ اجیت دادا کی باڈی نہیں تھی، یہ اب بھی ایک برے خواب جیسا لگتا ہے۔‘‘
اجیت پوار کے بھتیجے روہت پوار کا کہنا تھا کہ ’’اجیت پوار کا طیارہ حادثہ سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ہم نے اجیت پوار کے حادثے کے بارے میں کچھ چیزوں کی جانچ بھی کی۔ ایک کتاب میں لکھا ہے کہ اگر آپ کسی انسان کو مارنا چاہتے ہیں تو سب سے آسان طریقہ ہے کہ اس انسان کے ڈرائیور کو مار دیا جائے۔ حادثے سے ایک روز قبل دادا کو شام کو ممبئی سے پونے آنا تھا، اس وقت قافلہ بھی چل پڑا تھا۔ لیکن دادا کار سے کیوں نہیں گئے؟ اجیت دادا کو ایک بڑے لیڈر سے ملنا تھا۔‘‘









