نئی دہلی19اکتوبر: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نیہا بورا نے دہلی پولیس کی جانب سے جاری اس نوٹس کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس میں انہیں 10 ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ بھرنے اور تحقیقات کی مدت کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ نیہا بورا کو جمعہ کی شام دہلی کے کناٹ پلیس علاقے میں ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے قبل پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔ انہیں اگلے روز صبح رہا کر دیا گیا۔ اب انہوں نے پولیس کے اس نوٹس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے، جس کے تحت انہیں خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کے سامنے پیش ہونے اور مچلکہ جمع کرانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ’بار اینڈ بنچ‘ کی رپورٹ کے مطابق، نیہا بورا کی قانونی ٹیم نے بتایا کہ دہلی پولیس نے 18 اکتوبر کو انہیں نوٹس جاری کیا تھا۔ اس نوٹس میں نیہا کو 19 اکتوبر کو خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا تھا کہ نیہا بورا کو اپنے خلاف جاری تحقیقات کی مدت کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضمانتی کے ساتھ 10 ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ بھرنا ہوگا۔ اس طرح پولیس نے انہیں ایک مقررہ رقم کے مچلکہ کے ذریعے امن برقرار رکھنے کی پابندی کا سامنا کرنے کی ہدایت دی تھی۔
نیہا بورا کی قانونی ٹیم کے مطابق، وہ 19 اکتوبر کو خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کو مطلع کریں گے کہ نیہا بورا اس مچلکہ پر دستخط نہیں کریں گی۔ مجسٹریٹ کی جانب سے جاری ہونے والی نئی ہدایات کی بنیاد پر آگے کی کارروائی طے کی جائے گی۔ دریں اثنا، دشہرے کی تعطیلات کے باعث دہلی ہائی کورٹ فی الحال بند ہے اور 26 اکتوبر کو دوبارہ کھلے گی۔ اس وجہ سے نیہا بورا کی جانب سے پولیس کے نوٹس کو چیلنج کیے جانے کے معاملے میں عدالت میں فوری سماعت کا امکان نہیں ہے۔









