بھوپال 24جون: وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ سائبر خطرہ ایک ایسا نا دکھنے والا دشمن ہے جو بغیر دستک دیے ہمارے گھروں تک پہنچ رہا ہے۔ سائبر خطرات کو سمجھنا ہی ان سے بچنے کا سب سے بڑا راستہ ہے۔ احتیاط ہی حفاظت ہے اور معلومات ہی بچاؤ ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ڈیجیٹل اریسٹ، ڈیپ فیک، پروفائل، ہیکنگ، ڈیٹا بریچنگ، آن لائن فراڈ، او ٹی پی دھوکہ دھڑی، آن لائن شاپنگ ٹھگی، رینسم ویئر حملے اور جعلی سرمایہ کاری لنکس جیسے جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں ہر شہری کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ریاست کی عوام کو سائبر تحفظ کے تین اہم اصول—بیداری، احتیاط اور شمولیت—کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ جو لوگ سائبر تحفظ کی معلومات رکھتے ہیں وہ دوسروں کو بھی اس کے بارے میں بیدارکریں۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو بدھ کو رویندر بھون میں منعقد ہونے والی ریاست گیر سائبر بیداری مہم کے تحت سیف کلک کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ مہم 24 جون سے شروع ہو کر 8 جولائی تک ریاست کے 10 ڈویزنز، 55 اضلاع اور 50 ہزار سے زیادہ گاؤں میں ایک ساتھ چلائی جائے گی۔ اس مہم کے تحت سائبر ٹھگی اور دیگر جرائم سے بچاؤ کے لیے بیدار کیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے سائبر بیداری پوسٹرز، اسکولی بچوں کے لیے تیار کردہ سائبر بیداری بک لیٹس اور مہم کے آفیشیل ویڈیو کا اجرا کیا۔ اس سے پہلے وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے سائبر بیداری رَتھ کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کو تلسی کا پودا پیش کر کے استقبال کیا گیا۔ تقریب کے اختتام پر یادگاری نشان بھی دیا گیا۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے مہم کے لیے مدھیہ پردیش پولیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں مدھیہ پردیش پولیس ہمیشہ ’’سنکٹ موچک ہنومان ‘‘کے کردار میں رہتی ہے۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بتایا کہ سال 2025 میں ریاست میں مختلف سائبر بیداری سرگرمیوں کے ذریعہ 33 لاکھ سے زیادہ شہریوں کو بیدار کیا گیا۔ اب اس مہم کو پنچایتوں، اسکولوں، بینکوں، بازاروں، مذہبی مقامات اور سرکاری دفاتر تک بڑھایا جائے گا۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت کے 56 محکموں کی تقریباً 1700 خدمات مربوط پورٹل پر دستیاب ہیں اور ان کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ سائبر تحفظ کو ایک عوامی تحریک بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں سائبر خطرات نا دکھنے والی شکل میں ہماری زندگیوں میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اسمارٹ فون اور کمپیوٹر کے ذریعہ ہونے والے سائبرجرائم سے بچاؤ کے لیے احتیاط اور بیداری ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہیں۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ سائبر جرائم کے خلاف ریاست کے باشندوں کو بیدار کرنے کے لیے مدھیہ پردیش پولیس کی “سیف کلک 2.0” سائبر بیداری مہم اہم کردار ادا کرے گی۔ اس مہم سے ریاست کے تمام شہری باخبر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر مجرم ایک قسم کے ڈیجیٹل دور کے راکشس ہیں جو خاموشی سے لیپ ٹاپ، کمپیوٹر اور موبائل کے ذریعہ ہمارے ساتھ نقب زنی اور ڈکیتی کرتے ہیں۔ آج کل ڈیجیٹل اریسٹ، ڈیپ فیک، ڈیٹا بریچنگ، آن لائن فراڈ، رینسم ویئر اٹیک جیسے متعدد سائبر جرائم جاری ہیں۔ لیکن سائبر جرائم کے معاملے میں احتیاط ہی بچاؤ ہے۔ مدھیہ پردیش پولیس نے ملک میں پہلی بار سائبر ڈکیتی کا لائیو پردہ فاش کیا تھا، جس کے لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ گزشتہ سال ریاستی پولیس نے اپنے سائبر بیداری مہم کے ذریعے تقریباً 33 لاکھ سے زیادہ شہریوں کو بیدار کیا تھا۔ اس سال 15 دن چلنے والی “سیف کلک 2.0” مہم میں ہر دن ایک مختلف موضوع رکھا گیا ہے۔ اس دوران لوگوں کو بینکنگ، خواتین کی حفاظت اور دیہی علاقوں میں بیداری کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔ یہ مہم بینکوں، بازاروں، اسکولوں، مذہبی مقامات اور عوامی مقامات پر چلائی جائے گی۔ اس کے لیے دلچسپ عوامی تفریحی پروگرام بھی تیار کیے گئے ہیں۔ سائبر تحفظ کو بیداری ،احتیاط اور شمولیت کے ذریعہ مؤثر بنایا جائے گا۔ سائبر جرائم کی ہیلپ لائن 1930 اور نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ یہ نمبر سائبر جرم کی صورت میں متاثرین کے لیے ڈھال بنتا ہے ۔









