بھوپال:17؍مارچ:معذور بچوں کو اداروں سے نکال کر انہیں خاندان کی محبت اور محفوظ مستقبل فراہم کرنے کے مقصد سے منعقد علاقائی مشاورتی میٹنگ منگل کے روز رویندر بھون میں منعقد ہوئی۔ وزیرخواتین و اطفال ترقیات محترمہ نرملا بھوریا نے کہا کہ خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کو گود لینے کو فروغ دینے کے لیے وسیع پیمانے پر بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج کی حساسیت اور مثبت سوچ کے ذریعے ہی ان بچوں کو خاندان اور بہتر زندگی مل سکتی ہے۔وزیر محترمہ بھوریا نے کہا کہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی جانب سے’دیویانگ‘ لفظ دے کر معاشرے میں مثبت نقطہ نظر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں غیر ادارہ جاتی بحالی کو ترجیح دی جا رہی ہے اور وزیر اعلیٰ بال آشیرواد یوجنا کے ذریعے اسپانسرشپ اور بعد از نگہداشت کی سہولیات فراہم کر کے بچوں کو معاشرے کے مرکزی دھارے سے جوڑا جا رہا ہے۔
بھوبال میں منعقد اس علاقائی مشاورتی میٹنگ میں خواتین و اطفال ترقیاات محکمہ کی سکریٹری محترمہ جی وی رشمِی، مرکزی لے پالک وسائل اتھارٹی کی نائب ڈائریکٹر محترمہ رچا اوجھا، اتر پردیش، اتراکھنڈ اور چھتیس گڑھ کے نمائندگان، مختلف محکموں کے افسران اور بچوں کے تحفظ کے شعبے سے وابستہ ماہرین موجود تھے۔ وزیر محترمہ بھوریا نے کہا کہ معذور بچوں کی ہمہ جہت ترقی کے لیے خاندان کی محبت انتہائی ضروری ہے، کیونکہ کوئی بھی ادارہ خاندان کی جگہ نہیں لے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2024-25 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 4,155 بچوں کو گود لیا گیا، جن میں صرف 7 فیصد خصوصی ضروریات کے حامل بچے تھے، اور ان میں سے بھی زیادہ تر بچوں کو غیر ملکی جوڑوں نے گود لیا۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں معذور بچوں کو گود لینے کے حوالے سے بیداری بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح آئی وی ایف جیسی تکنیک کا فروغ کیا جا رہا ہے، اسی طرح مؤثر تشہیر گود لینے کے لیے بھی ہونی چاہیے۔ اس کے لیے مرکوز حکمت عملی کے ساتھ بے اولاد جوڑوں کو رہنمائی فراہم کرنا ضروری ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے متعدد معذور بچوں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مختلف شعبوں میں، چاہے وہ کھیل کا میدان ہو یا یو پی ایس سی میں کامیابی، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کامیاب معذور افراد کو برانڈ ایمبیسیڈر بنا کر معاشرے میں مثبت پیغام دیا جا سکتا ہے۔وزیر محترمہ بھوریا نے کہا کہ معذور بچوں کو گود لینے والے خاندانوں کے لیے طبی علاج، مفت فزیوتھراپی، مشاورتی خدمات، تعلیمی مدد اور انشورنس جیسی سہولیات پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بچوں کی تعداد کم ہونے کے باعث ریاست وار خصوصی منصوبے بنا کر ان کی مناسب بحالی کے لیے بجٹ کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔
خواتین و اطفال ترقی محکمہ کی سکریٹری محترمہ جی وی رشمِی نے کہا کہ بھارتی معاشرے میں اقدار کی بہت اہمیت ہے، لیکن جب خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کو گود لینے کی بات آتی ہے تو سماجی روایات اکثر فیصلے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی حساسیت سے ہی معذور بچوں کا مستقبل بدلا جا سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس سماجی انصاف، صحت اور قانون جیسے مختلف محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے ذریعے مؤثر حل تلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے شریک ریاستوں سے اپنے اپنے علاقوں میں کیے جانے والے اختراعات اور بہترین طریقہ کار کو شیئر کرنے کی اپیل کی۔









