بھوپال:13؍مارچ:سرکاری مہارانی لکشمی بائی کنیا اسناتکوتر (خود مختار) مہاودیالیہ، بھوپال کی جانب سے ‘‘ترقی یافتہ بھارت @2047: ثقافت، علم اور پائیداری پر بین الموضوعاتی نقطہ نظر’’ کے موضوع پر دو روزہ قومی سمپوزیم اور نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ جس کا جمعہ کو ایڈیشنل چیف سکریٹری، اعلیٰ تعلیم مسٹر انوپم راجن نے افتتاح کیا۔ اس کے ساتھ ہی مہاودیالیہ کی جانب سے قومی سمپوزیم کے سلسلے میں تیار کی گئی یادگاری کتاب اور مونوگراف کا بھی اجراء کیا گیا۔
ایڈیشنل چیف سکریٹری اعلیٰ تعلیم مسٹر راجن نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں تعلیمی نظام میں کثیر موضوعاتی مطالعہ کے طریقہ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد طلبہ کو مختلف مضامین پر مشتمل جامع علم فراہم کرنا ہے۔ مسٹر راجن نے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں ہمہ جہت ترقی کے تصور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف معاشی ترقی ہی کافی نہیں ہے بلکہ سماج کی متوازن اور ہمہ گیر ترقی کے لیے انسانی اقدار، ثقافت، وراثت اور ماحول کے تحفظ پر بھی یکساں توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنس کا مطالعہ اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ فنون اور سماجی علوم سے وابستگی بھی اتنی ہی ضروری ہے تاکہ طلبہ کی ہمہ جہت ترقی ممکن ہو سکے۔
سمپوزیم کے دوران مختلف جامعات اور مہاودیالیوں سے آئے ہوئے اساتذہ، محققین اور طلبہ و طالبات اپنے تحقیقی مقالات پیش کریں گے۔ اس کے ساتھ ترقی یافتہ بھارت 2047 کے تصور کے تناظر میں ثقافت، علمی روایت اور پائیدار ترقی سے متعلق مختلف موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
مسٹر راجن نے نمائش کا معائنہ کیا
ایڈیشنل چیف سکریٹری مسٹر راجن نے دو روزہ قومی سمپوزیم کے دوران مہاودیالیہ کے احاطہ میں مختلف فیکلٹیوں کی جانب سے لگائی گئی ایک خصوصی بین الموضوعاتی نمائش کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے طالبات سے گفتگو کر کے نمائش کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں۔ اس کے ساتھ قدیم سکوں کا ذخیرہ، سمراٹ وکرمادتیہ کے سکے، اجین کے مہاکال مندر سے متعلق سکے اور دیگر ادوار کے نایاب سکوں کی نمائش بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ پدم شری ڈاکٹر نارائن ویاس کے جمع کردہ قدیم اوزار، پنچانگ، ڈاک ٹکٹ اور دیگر نوادرات بھی پیش کیے گئے۔ مہاودیالیہ کی جانب سے سوراج سنستھان، بھوپال کے تعاون سے ‘‘وندے ماترم’’ کی تاریخی سفر پر مبنی ایک خصوصی نمائش بھی منعقد کی گئی، جس میں قومی گیت وندے ماترم کی ابتدا، آزادی کی جدوجہد میں اس کے محرک کردار اور ہندوستانی قومی شعور میں اس کی اہمیت کو بھی پیش کیا گیا۔
سمپوزیم میں کمشنر، مدھیہ پردیش ریاستی انتخابی کمیشن مسٹر منوج شریواستو، کمشنر اعلیٰ تعلیم مسٹر پربل سپاہا، ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر، نئی دہلی مسٹر آر آر رشمی، پدم شری ڈاکٹر نارائن ویاس، ادیب مسٹر اْدین وجپئی، بھارتیہ پراتتو سروے (ASI) کے ڈاکٹر منوج کمار کرمی، قبائلی میوزیم بھوپال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر دھرمیندر پارے اور دتّوپنت ٹھینگڑی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مکیش مشرا سمیت بڑی تعداد میں دانشور اورکالج کی طالبات موجود تھیں۔









