بھوپال:2؍اپریل:وزیر تعمیرات عامہ مسٹر راکیش سنگھ نے کہا ہے کہ ریاست کو 4302.87کروڑروپے لاگت کے4اہم سڑک پروجیکٹوں کی مرکزی حکومت سے منظوری ملنے سے مدھیہ پردیش میں ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔ انہوںنے اس فراہمی کیلئے وزیراعظم مسٹر نریندرمودی اور مرکزی وزیر سڑک ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہ مسٹر نتن گڈکری کے تئیں شکریہ کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر مسٹر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم مسٹر مودی کی قیادت اور مرکزی وزیر مسٹر گڈکری کی رہنمائی میں ملک کا انفرااسٹریکچر علاقہ غیر معمولی ترقی کر رہاہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں ریاست میں وکاس یاترا کی رفتار مزید تیز ہو رہی ہے ۔بھوپال ضلع میں قومی شاہراہ -146بی کے سندلپور سے نصراللہ گنج بائی پاس تک کے43.200کلومیٹر لمبے بلاک کو1535.66کروڑ روپے کی لاگت سے4لین میں تبدیل کرنے کی منظوری فراہم کی گئی ہے ۔ یہ بلاک ایک اہم آرٹیریل روٹ کے طور پر کام کرتا ہے ، جو قومی شاہراہ -47، قومی شاہراہ-46اور قومی شاہراہ -45کو آپس میں جوڑتا ہے ۔ یہ علاقہ نہایت بھیڑ- بھاڑ والا ہے ، جسے پیوڈ شولڈر سمیت 4لین کئے جانے سے ٹرافک کی ہمہ گیر صلاحیت میں سدھار ہوگا۔ مال گاڑیوں اور عوام کیلئے یہ راستہ اب اور بھی منظم ، محفوظ اور وقت بچانے والا ہوگا۔ ودیشا اور ساگر اضلاع میں قومی شاہراہ 146 کے راحت گڑھ سے برکھیڑی تک 10.079 کلومیٹر طویل 731.36 کروڑ روپے کی لاگت سے 4 لین میں تیار کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ پروجیکٹ بھوپال-کانپور اقتصادی کاریڈور کا حصہ ہے، جو نہ صرف علاقائی رابطوں کو بہتر بنائے گا بلکہ راحت گڑھ جیسی گھنے آباد قصبوں کو بائی پاس کرتے ہوئے ایک تیز اور ہموار راستہ بھی فراہم کرے گا۔یہ پروجیکٹ نیشنل ہائی وے-44 اور نیشنل ہائی وے-346 کو جوڑے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ، جیومیٹرک بہتری اور روٹ کی دوبارہ صف بندی سے سامان اور لوگوں کی نقل و حرکت زیادہ محفوظ اور موثر ہو جائے گی۔ اس سے خطے میں سماجی اور اقتصادی ترقی کو نئی تحریک ملے گی۔نیشنل ہائی وے-146 پر لہدرہ گاؤں جنکشن سے نیشنل ہائی وے-44 کے برکھیڑی گرو گاؤں جنکشن تک 20.193 کلومیٹر طویل 4 لین والے گرین فیلڈ ساگر ویسٹرن بائی پاس کی تعمیر کو منظوری دی گئی ہے۔ اس پروجیکٹ پر کل 688.31 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔موجودہ قومی شاہراہ 146 شہری بستیوں اور زیادہ ٹرافک والے علاقوں سے گزرتی ہے جس کی وجہ سے اکثر ٹرافک جام ہوتا ہے۔ نئے بائی پاس کی تعمیر سے ساگر شہر میں ٹریفک کا دباؤ کم ہو جائے گا، اور سفر کا وقت اور فاصلہ دونوں کم ہو جائیں گے۔ یہ منصوبہ علاقے کے شہریوں کو سفری سہولتیں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
گوالیار شہر کے مغربی حصے میں 28.516 کلومیٹر طویل رسائی کنٹرولڈ 4 لین بائی پاس کی تعمیر کو مرکزی حکومت نے 1347.6 کروڑ روپے کی لاگت سے منظوری دی ہے۔ اس کثر المقاصد پروجیکٹ کے تحت مرینا اور گوالیار اضلاع کے ساتھ ساتھ راستے میں موجود دیگر بڑے بلاکس اور تحصیل ہیڈ کوارٹر کو بھی جوڑا جائے گا۔ یہ نیا روڈ سیکشن ایک آرٹیریل روٹ کے طور پر کام کرے گا، جس سے NH-46، NH-44 اور آنے والی آگرہ-گوالیار ایکسیس کنٹرولڈ ہائی وے سے رابطے کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کی ترقی سے بھاری مال برداری اور لمبی دوری کی نقل و حمل میں نمایاں بہتری آئے گی۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد ٹریفک کی ہموار اور محفوظ روانی کو یقینی بنایا جائے گا اور سفر کے وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔ یہ بائی پاس نہ صرف علاقائی ترقی کو تیز کرے گا بلکہ اقتصادی اور نقل و حمل سے متعلق سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا۔یہ پروجیکٹ نہ صرف مدھیہ پردیش کے رابطے کو مضبوط کریں گے بلکہ ٹرافک کی حفاظت، مال برداری کی کارکردگی، وقت کی بچت اور علاقائی ترقی میں بھی اضافہ کریں گے۔ آنے والے سالوں میں یہ سڑکیں ریاست کی اقتصادی، سماجی اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔