نئی دہلی18جولائی: یمن میں قید کیرالہ کی نرس نمیشا پریا کی سزائے موت کو رکوانے کے لیے دائر درخواست پر سپریم کورٹ میں جمعہ کو سماعت ہوئی۔ اس دوران ’سیو نمیشا پریا ایکشن کونسل‘ نامی فلاحی تنظیم نے عدالت سے درخواست کی کہ اسے یمن جا کر مقتول کے اہل خانہ سے بات چیت کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ کسی باہمی مفاہمت کی راہ ہموار ہو سکے۔ درخواست گزار تنظیم کا موقف ہے کہ مقتول کے اہل خانہ سے براہ راست بات چیت کے ذریعے سزائے موت کو معاف کرانے یا کم کرانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ یہ اجازت دینے کا اختیار حکومت کے پاس ہے اور درخواست گزار کو چاہیے کہ وہ حکومت کو اس بارے میں باقاعدہ درخواست دے۔ عدالت نے کہا کہ حکومت اس پر خود فیصلہ کرے گی، سپریم کورٹ اس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 16 اگست کو مقرر کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو مطلع کیا کہ فی الحال نمیشا پریا کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت ہند کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اب مقتول کے اہل خانہ سے براہ راست ملاقات کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس معاملے میں کوئی مثبت پیش رفت ہو سکے۔ ادھرحکومت ہند کی نمائندگی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آر وینکٹارامانی نے عدالت کو یقین دلایا کہ حکومت معاملے میں نہایت احتیاط اور حساسیت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ کوئی ایسا قدم اٹھایا جائے جس کا الٹا اثر ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد نمیشا پریا کو بحفاظت ہندوستان واپس لانا ہے اور اسی سمت میں تمام ممکنہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔









