احمد آباد، 25 فروری (یو این آئی ) جب دو ایسی ٹیمیں میدان میں اترتی ہیں جنہوں نے اب تک شکست کا ذائقہ نہ چکھا ہو، تو مقابلہ محض جیت ہار کا نہیں بلکہ اعصاب، حکمتِ عملی اور اعتماد کی آزمائش بن جاتا ہے۔
جمعرات کو احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کا سامنا ہوگا، جہاں دونوں ٹیمیں اپنے کلین ریکارڈ کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گی۔ جیت کے تسلسل برقرار رکھنے کے عزم کے ساتھ میدان سنبھالیں گی۔
ویسٹ انڈیز کی ٹیم اس وقت اپنی روایتی بے خوف کرکٹ کی بدولت توجہ کا مرکز ہے۔ ان کی طاقت صرف پاور ہٹنگ نہیں بلکہ ٹیم کی تہوں میں چھپی ہے۔ شیمرون ہٹمائیر کی پچھلے میچ میں 34 گیندوں پر 85 رنز کی اننگز نے ان کے خطرناک عزائم ظاہر کر دیے ہیں۔۔ شاہی ہوپ ٹاپ آرڈر کو سکون فراہم کرتے ہیں جبکہ روومین پاول اور شرفین ردرفورڈ مڈل اوورز میں اسکور کی رفتار بڑھاتے ہیں۔ اسپین میں عقیل حسین اور گڈاکیش موتی کی جوڑی کھیل کے نازک لمحات میں رنز روکنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔۔جنوبی افریقہ کا سفر اب تک واضح کرداروں اور بہترین ڈھانچے پر مبنی رہا ہے۔
انہوں نے حالات کے مطابق ڈھلنا سیکھ لیا ہے۔ڈیوڈ ملر کی اننگز کی رفتار کو سمجھنے کی صلاحیت ٹیم کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے۔گیند بازی میں پروٹیز کو برتری حاصل دکھائی دیتی ہے۔ مارکو یانسن کا اچھال اور زاویہ، کگیسو ربادا کی تیزی اور لُنگی نگیڈی کی ورائٹی انہیں ہر مرحلے میں مؤثر بناتی ہے۔ احمد آباد کی وکٹ پر، جہاں روشنیوں میں ہدف کا تعاقب نسبتاً آسان سمجھا جاتا ہے، یہ صلاحیت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
اس ٹاکرے کی کشش صرف یہ نہیں کہ دونوں ٹیمیں اب تک ناقابلِ شکست ہیں، بلکہ یہ کہ دونوں نے مختلف انداز سے کامیابیاں سمیٹی ہیں ۔ ویسٹ انڈیز نے رفتار اور مومینٹم سے، جب کہ جنوبی افریقہ نے حساب کتاب اور نظم کے ساتھ۔ بڑے ٹورنامنٹس میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب بیانیہ آزمائش سے گزرتا ہے۔ جمعرات کی شام تک ایک ٹیم کا شاندار ریکارڈ ٹوٹ جائے گا، اصل سوال یہ ہے کہ پہلی ٹھوکر کے بعد کون سی ٹیم بہتر انداز میں سنبھلتی ہے۔