نئی دہلی 2 اپریل (یو این آئی)اگر یہ متنازعہ اور فرقہ وارانہ تفریق پر مبنی بل پارلیمنٹ سے منظور کرلیا گیا تو مسلم پرسنل بورڈ تمام دستوری، قانونی اور جمہوری ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے، اس کے خلاف اس وقت تک ملک گیر تحریک چلائے گا جب تک کہ یہ متنازعہ ترمیمات واپس نہیں لی جاتیں۔اس عزم کا اظہار ہنگامی طور پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج حکومت ہند وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے جارہی ہے، جس پر مختصر بحث کے بعد اندیشہ ہے کہ اسے منظور کرلیا جائے گا۔ ہم ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ یہ بل نہ صرف دستور ہند کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے( آرٹیکل 26, 25, 14) بلکہ تفریق پر مبنی ہے اور بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے ذریعہ وہ مسلمانوں کے بنیادی حقوق سلب کرکے انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانا چاہتی ہے۔لہذا ہم اسے پوری طرح مسترد کرتے ہیں۔اس سے قبل بھی یہ متنازعہ بل پارلیمنٹ میں بحث کے لئے پیش کیا گیا تھا اور اپوزیشن کی سخت مخالفت کے بعد اسے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کردیا گیا تھا۔ جے پی سی نے اس پر متعلقہ افراد سے رائے طلب کی۔ مسلمانوں کی غیر معمولی اکثریت نے انہیں متنازعہ، تفریق پر مبنی، دستور کے بنیادی حقوق سے متصادم اور وقف املاک کو ہڑپنے کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کا حصہ بتاکر اسے کلیتاً مسترد کردیا۔ جے پی سی نے اس پر غیر متعلقہ افراد، جماعتوں اور اداروں سے بھی رائے طلب کی، جنہوں نے ان ترمیمات کے حق میں رائے دی( حکومت کے منشاء کے مطابق)۔