بھوپال، 31 جنوری: مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں گائے کے مبینہ قتل اور گوشت سے منسلک معاملے کو لے کر ماحول مسلسل گرماتا جا رہا ہے۔ اس حساس معاملے میں اب مسلمان بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ سنیچر کو مسلمانوں نے سڑکوں پر اتر کر نہ صرف اس واقعہ کی سخت مذمت کی بلکہ میئر کے استعفے اور ملزم اسلم چمڑا سمیت متعلقہ افسران پر سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ بھوپال میں سنیچر کو ایک انوکھا اور پرامن مظاہرہ دیکھنے کو ملا، جہاں مسلمانوں نے گائے کو سبزیاں کھلا کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ مظاہرین نے اس علامتی احتجاج کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ گائے کا قتل کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے اور یہ معاملہ انسانیت اور قانون سے مربوط ہے، نہ کہ کسی خاص مذہب سے۔
مظاہرہ کے دوران مسلم لیڈران نے میئر سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اسلم چمڑا اور اس کے ساتھی افسران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی مانگ بھی کی۔
احتجاج کے دوران ایک اہم مطالبہ یہ بھی سامنے آیا کہ گائے کو ’قومی جانور‘ کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ اس پرامن مظاہرہ میں محمد شاور اور مجاہد صدیقی بھی موجود رہے۔ ان دونوں لیڈران نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ ہونی چاہیے اور قصورواروں کو کسی بھی حال میں بخشا نہیں جانا چاہیے۔
فی الحال انتظامیہ صورتحال پر گہری نظر بنائے ہوئے ہے، جبکہ اس مسئلے کو لے کر شہر کا سیاسی اور سماجی ماحول مسلسل حساس بنا ہوا ہے۔







