آج کل یوں لگتا ہے کہ فضاؤں میں ہر طرف مشاعروں کی بہار آ گئی ہے۔ شمال سے جنوب تک، مشرق سے مغرب تک، مشاعروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ دہلی کے تاریخی قلعے سے لے کر لکھنؤ کی ادبی گلیوں تک، بھوپال کے کلچرل ہالز سے ممبئی کے ساحلی پروگرامز تک، ہر جگہ شعرا اپنے کلام سے محفلیں گرمائے ہوئے ہیں۔ سامعین خوشی سے جھوم رہے ہیں، قافیہ اور ردیف کے موتی بکھر رہے ہیں، اور بظاہر یہ منظر اُردو کی فتح کا جشن محسوس ہوتا ہے۔مگر حقیقت کا پردہ ذرا سا ہٹائیں، تو منظر بالکل برعکس نظر آتاہے۔ ان رنگین مشاعروں میں اُردو کی موجودگی اکثر صرف رسمی ہوتی ہے۔ اسٹیج پر لگے بڑے بڑے بینر اور پچھلے پردے پر اسپانسر کے لوگو اور پروگرام کے شیڈول چمک رہے ہوتے ہیں، لیکن اُردو کا رسم الخط بمشکل کسی ایک لائن یا ہیڈنگ میں نظر آتا ہے—اکثر تو وہ بھی صرف نمائشی طور پر۔ شعرا کا تعارف اور اشعار بھی رومن اُردو یا انگریزی میں چھپے ملتے ہیں، جیسے اُردو اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو گئی ہو۔
یہ رویہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم اُردو کو صرف تقریروں، نغموں اور جذباتی حوالوں میں یاد رکھتے ہیں، مگر عملی زندگی میں اسے جگہ نہیں دیتے۔ سوال یہ ہے کہ جب ہمارے اپنے نجی(ذاتی) پروگرام اور تقریبات اُردو کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہی ہیں تو ہم حکومت یا اداروں سے کیا شکوہ کریں؟ کیا ہم واقعی یہ چاہتے ہیں کہ سرکاری بینروں، سڑکوں کے بورڈز اور اسٹیشنوں کے ناموں میں اُردو نظر آئے، جب کہ ہم خود اپنے شادی کارڈ، دعوت نامے، بینر اور سوشل میڈیا پوسٹ تک اُردو رسم الخط میں نہیں لکھتے؟
اصل مسئلہ صرف ذاتی رویہ نہیں، سرکاری پالیسی بھی ہے۔ کئی ریاستوں میں برسوں سے اُردو اساتذہ کی بھرتیاں روکی ہوئی ہیں۔ ریاستی نصاب میں سائنس، میتھس اور ٹیکنالوجی کی معیاری اُردو کتابیں شائع نہیں ہوتیں یا پھر بہت ہی کم شائع ہوتی ہیں جو ناکافی ہوتی ہیں۔ بک نگم اور تعلیمی بورڈز میں اُردو طباعت کا بجٹ محدود یا صفر کے برابر کر دیا گیا ہے۔ مدرسہ بورڈ اور اُردو اکیڈمی جیسے ادارے مالی بحران کا شکار ہیں، اور اکثر سیاسی دباؤ کے تحت غیر فعال بنا دیے جاتے ہیں۔
یاد رکھیں! مشاعرے ضرور سجائیں، محفلیں ضرور منعقد کریں، مگر یہ مت بھولیں کہ اُردو صرف اسٹیج پر داد لینے کا نام نہیں۔ مشاعرے کا ہر کام- پوسٹر ،بینر، دعوت نامے سب کے سب اُردو زبان میں ہونا چاہئے کسی اور زبان کی ذرہ برابر بھی آمیزش نہیں ہونا چاہئے۔
واضح رہے کہ محض مشاعروں کے انعقاد سے اُردو کے مسئلے مسائل دور نہیں ہوں گے اُردو کا اصل فروغ تب ہوگا جب:
۱:- مشاعرے کے تمام بینر، دعوت نامے، اور اشاعتی مواد مکمل اُردو رسم الخط میں ہو اسے لازمی بنایا جائے۔
۲:- مشاعرے میں شریک سامعین اور شعراء، دونوں اپنی تحریری گفتگو میں اُردو کو ترجیح دیں۔
۳:- مشاعرے کو سرکاری اداروں اور نصاب میں اُردو کی موجودگی کے مطالبے کا پلیٹ فارم بنایا جائے اور اُردو کے تمام مسئلہ مسائل کے لئے جو بھی ذمہ دار ہوں آواز بلند کریں۔
۴:- اسکولوں اور کالجوں میں اُردو رسم الخط میں تمام مضامین کی معیاری کتابیں فراہم ہوں اس کے لئے بھی ایسے پلیٹ فارم سے آواز بلند کی جائے۔
۵:- ہر ضلع میں اُردو اساتذہ کی تعداد ضروریات کے مطابق ہو۔
۶:- سرکاری نوٹس، اشتہارات اور بورڈز میں اُردو کو برابری کا مقام ملے۔
۷:- سماجی سطح پر ہم خود اپنی تحریری اور آن لائن گفتگو میں اُردو رسم الخط کا استعمال بڑھائیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مشاعرے کی روشنی چند گھنٹوں کے بعد بجھ جاتی ہے، لیکن رسم الخط، نصاب، اور سرکاری ریکارڈ میں موجود زبان کی حیثیت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ اگر ہم نے آج اُردو کو صرف ”محفل کی رونق” بنائے رکھا، تو آنے والے وقت میں یہ رونق تصویروں میں تو نظر آئے گی، مگر حقیقی زندگی میں نہیں۔اگریہ روشنی رسم الخط، نصاب اور سرکاری ریکارڈ تک پہنچے، تو اُردو ہمیشہ زندہ اور جیتی جاگتی رہے گی۔ ورنہ آنے والے وقت میں ہمارے پاس بس وہ تصویریں رہ جائیں گی جن میں مشاعرے کا شور تو سنائی دے گا، مگر اُردو کی آواز خاموش ہوگی۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے—ہم اُردو کو صرف جشن کا زیور بنائیں یا اسے روزمرہ کی ضرورت کا حصہ۔ اگر ہم نے ابھی سے عملی قدم نہ اٹھائے، تو کل کے مشاعرے بس ایک یادگار فوٹو گیلری بن کر رہ جائیں گے جس میں اُردو کی مسکراہٹ تو ہوگی، مگر سانس نہیں۔









