کیلگری(کینیڈا) 23جون:خوبصورت وادیوں سے آراستہ شہر کیلگری میں اردو سے محبت کرنے والوں نے غزل کے چمن زار اور نظموں کے گلزاروں کو اپنے کلام سے ،مزید مہکا دیا ۔۔ ثروت زیدی کے عرب ممالک کے دوستوں میں ہر دل عزیز شخصیت جناب شیراز مہدی ضیا سے ملاقات کیا ہوئی ۔ دمام اور جبیل کے مشاعروں کی یاد تازہ ہو گئ ۔ بیس سال کا عرصہ آنکھوں کے سامنے تھا ۔ ڈاکٹر مکرم زیدی نے ایک عظیم الشان مشاعرے کا اہتمام کیا ۔ قاضی راشد متین صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں بطور مہمانِ خصوصی ثروت زیدی نے شرکت کی۔،پروفیسر سمن طارق ۔ جناب جواد گل ،بزرگ شاعر جاوید نظامی ۔ محترمہ امتل متین غزل ( پروین شاکرا ایوارڈ یافتہ) محترمہ صائمہ ریاض ، سیاسی رہنما اور شاعر جناب اقتدار آوان ۔ جناب شکیل چغتائی ۔ سبحان رانا ۔ اور دوسرے نامور ادیب و شعرا اور سامعین شامل ہوئے ۔ نظامت کے فرائض جناب شیراز صاحب نے انجام دیئے ۔ برسوں پہلے شہر الخبر کے مشاعرے کی ابتدا ثروت زیدی کے شعر سے کی گئی تھی آج بھی اسی شعر پہ سہرا باندھا گیا ۔اپنے وطن سے دور ملے جب وطن کے لوگ تو۔ایسا لگا جیسے اپنے خاندان میں ہوںایک سے بڑھ کر ایک غزلیں اور نظمیں مشاعرے کی زینت بنی ۔آخر میں صدر مشاعرہ محترم قاضی راشد متین صاحب نے کہا ۔ہم تو کل تک تھے آفتاب مثال ۔ظلمتوں میں سمٹ گئے کیسے۔ ایکتا کی مثال تھے ہم لوگ ۔۔اتنے ٹکڑوں میں بٹ گئے کیسے ۔
محسن کاظمی نے جون ایلیا کو منظوم خراج پیش کیا ۔ اقتدار اعوان نے کئی تخلیقات کے ساتھ اپنی مشہور نظم نچنیا سنائی ۔مشاعرے میں وقت کا خیال رکھا گیا ۔ شعرا حضرات نے اپنی کتابیں ایک دوسرے کو تحفے کے طور پر پیش کیں ۔شاندار ڈنر کا اہتمام کیا گیا ۔۔ اور جب تک موسم بہتر ہے ۔ مشاعرے اور نشستوں کا سلسلہ جاری رکھنےکی بات کہی ہے ۔ کینیڈا کے مختلف شہروں میں بھی اردو کے چاہنے والے موجود ہیں ۔ثروت زیدی نے تمام ادب نواز دوستوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا ۔۔غزل جب گومتی سے پیار کی جمنا میں آتی ہے ۔سمندر پار بھی اردو کی محفل جگمگاتی ہے ۔ ریاض ، سعودی عرب میں مقیم فراست علی خسرو صاحب کے انتقال پر اظہار افسوس کی اگیا اور ان کی ادبی خدمات کو سراہا گیا ۔









