لکھنؤ:30؍اگست: (پریس ریلیز)”کچھ شخصیتیں مختلف حوالوں سے جانی جاتی ہیں اور کچھ شخصیات ایسی ہوتی جو خود حوالہ بن جاتی ہیں۔ مفتی شکیل احمد قاسمی سیتاپور ایک ایسی شخصیت تھی جو ہمہ جہت تو تھی ہی خود اپنے آپ میں ایک حوالہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ ان کے حوالے سے ان کے اہل خاندان کو شناخت ملی، ان کی ذات سے ان کے گاؤں کو جانا گیا اور ان کی شخصیت کے حوالے سے سیتاپور کے نام کو نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک میں بھی شناخت ملی“۔ یہ باتیں یہاں نیو جن پتھ کمپلیکس حضرت گنج لکھنؤ میں مفتی شکیل سیتاپور کی یاد میں ’اسلامی نقوش‘ کی خصوصی اشاعت کی تقریب رسم اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین و صاحب طرز ادیب مولانا عبدالعلی فاروقی ایڈیٹر ماہنامہ ’البدر ‘ نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہیں۔ انھوں نے پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ مفتی شکیل سیتاپوری میرے ہم درس تھے اور دور طالب علمی میں بھی وہ تحریری و تقریری سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے تھے۔ مولانا فاروقی نے کہا کہ مفتی شکیل کے اصلاحی خطبات اوران کی تدریسی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
میں اپنے رفیقِ درس کی حیات و خدمات پر ماہنامہ اسلامی نقوش کے مدیرِ محترم مولانا مفتی محمد خبیر ندوی علیگ کو مبارکباد پیش کرتا ھوں کی اُنہوں نے اتنا ضخیم 480 صفحات پر مشتمل خصوصی شمارہ ترتیب دے کر ایک تاریخ رقم کردی ہے، پروفیسر ڈاکٹر فدا حسین انصاری سابق چیئرمین برائے اعلیٰ تعلیمی کمیشن اترپردیش نے مفتی شکیل احمد قاسمی صاحب سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں تعلیم و تعلم کی شدید ضرورت ہے جِس کے لیے مفتی شکیل احمد قاسمی صاحب نے اپنی پوری زِندگی وقف کردی، اُنہوں نے علم کے حصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج صرف اور صرف قابلیت کی ضرورت ہے، سبھی کو چائیے کہ ہم سب محنت اور جانفشانی سے تعلیم حاصل کریں، آج بھی مواقع کی کمی نہیں ہے۔ تقریب رسمِ اجراء کے موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن لکھنؤ کے سابق صدر اور مشہور ملی و سماجی کارکن ڈاکٹر محمد طارق صدیقی نے کہا کہ مفتی شکیل سیتا پوری کا امتیاز یہ تھا کہ وہ لوگوں کو ماضی کی عظمتوں کے حوالہ سے حال اور مستقبل کو آراستہ کرنے، اپنے حقوق و فرائض سے زیادہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی اور سماج کے تمام طبقات کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیتے تھے اور یہی ملت کو ثابت کرنے کا تنہا وسیلہ ہے۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ محترم اور عربی مجلۃ البعث الاسلامی کے ایڈیٹر مولانا ڈاکٹر فرمان ندوی نے اپنے پر مغز خطاب میں کہا کہ مفتی شکیل احمد سیتاپوری سیرت و کردار اور علم و عمل ہر لحاظ سے مثالی ہونے کے ساتھ ایک کامیاب ترین استاذ اور مقبول خاص و عام خطیب تھے۔ انہوں نے تدریسی عمل عبادت سمجھ کر انجام دیا اور افراد سازی کے عظیم مشن میں کامیابی حاصل کی۔ خطابت اور تقریر میں وہ ساحرانہ اسلوب کے مالک تھے۔
ان کی تقریریں دلائل و براہین سے مزین اور اشعار و تاریخی حقایق سے مرصع ہوتی تھیں۔ وہ علم و عمل کا پیکر تھے۔
معروف اسلامی اسکالر اور محقق برائے اِنسانی حقوق جنوبی ایشیاء و مشرقِ وسطٰی آئر لینڈ جناب سالم عثمان نے مغربی ممالک میں اسلام کی سنہری تاریخ پر تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی مغرب میں اسلامی تعلیمات کی عمل آوری پر کوئی ممانعت نہیں ہے، مغربی ممالک کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ وہ اسلام کے مُکمل مذھب ھونے پر چیں بجبیں ہیں، اُنکی ننگ انسانیت حرکتوں کو اسلام کبھی بھی برداشت نہیں کرے گا، معروف اسلامی اسکالر مولانا ذکی نور عظیم ندوی نے کہا کہ مفتی صاحب کی اہم ترین خوبی علم و عمل کا امتزاج اور صحیح حوالوں سے اپنی بات کو مدلل کرتے ہوئے قران و حدیث سے امت کے رشتے کو مضبوط کرنا تھا۔ آج بھی اس کی کوشش کی شدید ضرورت ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملی کارکن اور تعلیمی بیداری کے محرّک پروفیسر عبدالحلیم قاسمی پرنسپل ارم یونانی میڈیکل کالج لکھنؤ نے مفتی شکیل احمد قاسمی کی علمی شخصیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ مفتی شکیل احمد قاسمی کی قابلیت ہی تھی جو دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ کرم اور اربابِ حل و عقد کو اپنے اُصول و ضوابط میں ترمیم کرنی پڑی، تقریب میں جمشید خاں کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی خطاب کرتے ہوئے اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
رسمِ اجراء تقریب کا آغاز قاری محمد حلیم نظامی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جبکہ محمد شفقت علی ندوی کاوش شوکتی نے نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا۔ نظامت مولانا ذکی نور عظیم ندوی نے کی۔ پروگرام کے کنوینر مشہور و معروف عالمِ دین، ممتاز ملی و سماجی کارکن، بے باکانہ صحافت کے علمبردار اور ماہنامہ اسلامی نقوش سیتاپور کے مدیر مفتی محمد خبیر ندوی علیگ نے اظہار تشکر کرتے ہوئے شکوہ شکایتیں کرنے والوں کو مردہ قوموں سے تعبیر کیا۔ آخیر میں مولانا عبدالعلی فاروقی کی دعا پر تقریب کا اختتام ہوا۔