بھوپال:11؍اکتوبر:(پریس ریلیز) مدھیہ پردیش اردو اکادمی، سنسکرتی پریشد، محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام اندور کے معروف ادیب و شاعر رشید اندوری کے اعزاز میں شام غزل، کتاب پر گفتگو اور طرحی مشاعرہ” کا انعقاد 10 اکتوبر 2025 بروز جمعہ شام 6:00 بجے دی ایڈن ہوٹل ( سندر ) ، ساؤتھ تُکو گنج، پٹیل سرکل کے پاس، اندور میں کیا گیا۔مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رشید اندوری مدھیہ پردیش کی ادبی دنیا کی ایک معروف شخصیت اور اردو کے ایک ممتاز شاعر ہیں جن کی شاعری میں ہندوستانی ثقافت، شائستگی اور فکری بیداری جھلکتی ہے۔ ان کی غزلوں میں محبت، احتجاج اور انسانیت ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کو فخر ہے کہ اندور میں ان کی شخصیت اور کارناموں پر سمینار منعقد کرکے ہم اردو ادب میں ان کی ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اکیڈمی کی کوشش ہے کہ طرحی مشاعرے کے ذریعے اندور کے نوجوان شاعروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور اندور کے غزل گلوکار کو اپنے فن کے مظاہرے کا موقع فراہم ہو۔
ڈاکٹر نصرت مہدی کے خطاب کے بعد اندور کے استاد شاعر اور ادیب رشید اندوی کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا اعزاز کیا گیا اور حافظ رفیق محسن نے ان کا منتخب کلام پیش کیا۔اس کے بعد ان کی حیات و خدمات پر مبنی ڈاکٹر شبانہ نکہت انصاری اور ڈاکٹر وسیم افتخار کی مرتبہ کتاب رشید اندوری : حیات شخصیت اور خدمات پر گفتگو ہوئی جس میں عزیز عرفان ( اندور ) اور ڈاکٹر وسیم افتخار ( برہان پور ) نے اظہار خیال فرمایا۔عزیز عرفان نے کہا کہرشید صاحب کی شخصیت کی تشکیل میں علاوہ اُن کے مشاہدہ اور تجربہ کے؛ مطالعے کے ذریعے انگیز کی گئی علمیت کو بہت دخل ہے۔ مطالعہ کا ایسا شوق اور شعر و ادب کا ایسا ذوق اب قصہ پارینہ ہے ۔ کتاب ملکیت ہو یا مستعار، اچھی کتاب کے دل دادہ ہیں۔ مطالعہ ڈوب کر ، دروں بینی اور ژرف نگاہی سے کرتے ہیں۔ میں نے کم ایسوں کو دیکھا ہے جو پڑھی ہوئی کتاب کے اچھے جملے اور اشعار برسوں بعد بھی ہو بہو دہراسکتے ہیں۔
رشید اندوری کی شاعری اُن کی شخصیت ہی کی توسیع ہے ۔ اس لئے چند جملے اس باب میں بھی ۔ مجھے محسوس ہوتا ہے ؛ رشید اندوری کی شاعری میں مطالعہ اور حافظہ کی برکتیں ظاہر اور عیاں ہیں۔ فارسی ، عربی الفاظ کی آمیزش ترکیبیں اور تلمیحیں جا بجا اور بے تکلف استعمال ہوئی ہیں ۔ اس امتیاز نے شعر کو مزید اعتبار بخشا ہے ۔ صاحب طرز ہونے کا شرف بڑی ریاضت، محنت، کاوش اور جذبہ و اخلاص کی بدولت حاصل ہوتا ہے۔ میں یہ بات بلا تکلف کہہ سکتا ہوں کہ رشید صاحب کا شعر انہی مساعی کا ثمرہ ہے اور اسی لئے دور سے پہچانا جاتا ہے۔
ڈاکٹر وسیم افتخار نے کہا کہ رشید اندوری، اندور ہی نہیں بلکہ مدھیہ پردیش کی اہم اور مایہ ناز ادبی شخصیات میں سے ایک ہیں۔اندور کے شعری و نثری، ادبی و سماجی سروکاروں میں ان کی ہستی محترم و مکرم، مستحکم و معظم اور بلند قامتی کے درجے پر فائز ہے ان کا بڑا کارنامہ ہے کہ انہوں نے مختلف ادبی تقاریب کے ذریعے اندور میں نثر کو سماعت کرنے کی ایک مستحکم روایت کا آغاز کیا انہوں نے اندور کے تخلیق کاروں اور فن کاروں کی کتابوں کو اشاعت کے مراحل سے گزارنے میں بڑی امداد کی ویسے رشید صاحب اندور کے اساتذہ کی تہذیب اور پچھلی شرافتوں کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں شعروادب کی چلتی پھرتی انجمن ہیں شعروسخن کی جیتی جاگتی یونی ورسٹی ہیں نیز اندور کی ادبی تاریخ کے انسائیکلوپیڈیا ہیں اسی لئے ان کی شخصیت سرزمینِ اندور کے لئے سرمایۂ افتخار ہے۔ اس اجلاس کی نظامت کے فرائض جاوید عالم نے بحسن خوبی انجام دیے۔اس اجلاس کے بعد دوسرے اجلاس میں رشید اندوری کے مصرعوں پر مبنی طرحی مشاعرہ منعقد ہوا جس میں نو جوان شعراء نے غزلیں پیش کیں۔ اس مشاعرے کی صدارت ڈاکٹر عزیز عرفان نے فرمائی۔ جن شاعروں نے غزلیں کہیں ان کے نام اور اشعار درج ذیل ہیں :
آپ نے مرے لقمے تنگ کر دیے لیکن!
برکتیں خدا بخشے آپ کے نوالوں میں!!
اشفاق رشید
کس طرح توڑ دی تونے یہ محبت کی قلم
تیرے ہاتھوں میں تو منصف کا ترازو بھی نہیں
پرمیت سنگھ “میت”
سب تجھے ڈھونڈنے لگتے ہیں مرے مصرعوں میں
اب تو غزلوں میں ترے ذکر کی خوشبو بھی نہیں
منظور دیپالپوری
غرق ہونے لگتی ہے تیرگی اجالوں میں
رنگ بھرنے لگتا ہوں جب ترے خیالوں میں
آدتیہ زرخیر
بارش ایسی تھی کہ سیلاب تھا ہر دامن میں
خشکی ایسی ہے کہ اب آنکھ میں آنسو بھی نہیں
نعمان علی
میں نے دیکھا ہے تری آنکھ کو تر ہوتے ہوئے
اس حقیقت کو کوئی دوسرا پہلو بھی نہیں
نشیکا ناگر
پتا چلے کہ غلامِ نبی کی میت ہے،
کچھ اس طرح میرے مالک میرا کفن مہکے
جنید احمد
تجھ کو لے آئے کوئی خشک چمن میری طرف
جب ترے پاس سے گزرے تری خوشبو بھی نہیں
پرنجل یادو
وصل کی آگ جلا دیتی ہے جسموں کو مگر
اس شبِ ہجر کے صحرا میں ذرا لو بھی نہیں
ندیم کاوِش
جیو تو اس طرح جیو، ایک مثال بن جاؤ
مرو تو موت کرے، رشک اور کفن مہکے
وشال شرما
طرحی مشاعرے کے بعد آخری اجلاس میں شام غزل کے تحت معروف غزل گلوکار گرومیت سنگھ ڈنگ ( اندور ) نے اپنی سحر انگیز آواز میں غزلوں کی پیشکش دے کر سامعین کو وجد آفریں کردیا۔ انھوں نے رشید اندوری کی دو غزلوں کے ساتھ درج ذیل غزلیں پیش کیں:
1.ہم نشینوں سے دور کتنا ہے۔
2. جانے کس بلندی سے گرا ہوں۔
3. جب بھی کسی نگاہ نے، موسم سجائے ہیں – ندا فاضلی۔
4. مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہے – اصغر گونڈوی۔
5. مجھ دیوانے کو نہ اب تک میرے نام سے جانے لوگ – انیس۔
6. بتوں نے نہ کیں آشنائی کی باتیں – ظفر
اس پروگرام میں مقامی کو آرڈینیٹر تجدید ساقی کا تعاون بھی شامل رہے گا۔
پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر نصرت مہدی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔









