بھوپال:28؍ستمبر:خریف مارکیٹنگ سال 2026-27 میں کم از کم امدادی قیمت پر دھان، جوار اور باجرے کی خریداری کے لیے رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ اب تک 46 ہزار 454 کسانوں نے رجسٹریشن کرایا ہے۔ کسان 10 اکتوبر تک رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔وزیر خوراک، شہری سپلائی و صارفین تحفظ مسٹر گووند سنگھ راجپوت نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ مقررہ وقت میں رجسٹریشن کرا لیں، تاکہ کسی بھی طرح کی دشواری نہ ہو۔ انہوں نے بتایا ہے کہ کسانوں کے رجسٹریشن کی سہولت کو آسان اور سہل بنایا گیا ہے۔ ریاست میں 1100 سے زائد رجسٹریشن مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
جبل پور ڈویڑن میں 21 ہزار 333، نرمداپورم میں 5 ہزار 167، بھوپال میں 2 ہزار 272، ریوا میں 10 ہزار 939، شہڈول میں 4 ہزار 552 اور ساگر ڈویڑن میں 2 ہزار 166 کسانوں نے رجسٹریشن کرایا ہے۔
رجسٹریشن کی مفت سہولت گرام پنچایت اور جن پد پنچایت و تحصیل دفاتر میں قائم سہولت مراکز اور کوآپریٹو سوسائٹیوں اور کوآپریٹو مارکیٹنگ اداروں کے ذریعے چلائے جانے والے رجسٹریشن مراکز پر فراہم کی گئی ہے۔
رجسٹریشن کی فیس والی سہولت
رجسٹریشن کی فیس والی سہولت ایم پی آن لائن کیوسک، کامن سروس سینٹر کیوسک، لوک سیوا مراکز اور نجی افراد کے ذریعے چلائے جانے والے سائبر کیفے پر فراہم کی گئی ہے۔ ہر رجسٹریشن کے لیے 50 روپے سے زیادہ فیس نہیں لی جائے گی۔ کسانوں کی رجسٹریشن کے لیے زمین سے متعلق دستاویزات اور کسان کے آدھار کارڈ و دیگر فوٹو شناختی دستاویزات کی مناسب جانچ کرکے ان کا ریکارڈ رکھنا لازمی ہوگا۔
سِکمی/بٹائی دار/کوٹوار اور جنگلاتی پٹہ رکھنے والے کسانوں کی رجسٹریشن کی سہولت صرف کوآپریٹو سوسائٹی اور کوآپریٹو مارکیٹنگ کوآپریٹو ادارے کے ذریعے چلائے جانے والے رجسٹریشن مراکز پر دستیاب ہوگی۔ اس زمرے کے 100 فیصد کسانوں کی تصدیق ریونیو محکمہ کی جانب سے کی جائے گی۔
کسان کی جانب سے کم از کم امدادی قیمت پر فروخت کی گئی پیداوار کی ادائیگی ترجیحی بنیاد پر کسان کے آدھار سے منسلک بینک اکاؤنٹ میں کی جائے گی۔ کسان کے آدھار سے منسلک بینک اکاؤنٹ میں ادائیگی کرنے میں کسی وجہ سے مسئلہ پیدا ہونے پر کسان کی جانب سے رجسٹریشن میں فراہم کیے گئے بینک اکاؤنٹ میں ادائیگی کی جا سکے گی۔ کسان کو رجسٹریشن کے وقت بینک اکاؤنٹ نمبر اور آئی ایف ایس سی کوڈ کی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ غیر فعال بینک اکاؤنٹس، مشترکہ بینک اکاؤنٹس اور فینو، ایئرٹیل، پے ٹی ایم کے بینک اکاؤنٹس رجسٹریشن میں قابل قبول نہیں ہوں گے۔ رجسٹریشن کے نظام میں بہتر سہولت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوگا کہ کسان اپنے آدھار نمبر سے بینک اکاؤنٹ اور موبائل نمبر کو لنک کراکے انہیں اپ ڈیٹ رکھیں۔تمام ضلع کلکٹروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ضلع اور تحصیل کی سطح پر قائم آدھار رجسٹریشن مراکز کو فعال رکھا جائے، تاکہ کسان وہاں جاکر آسانی سے اپنا موبائل نمبر اور بایومیٹرک اپ ڈیٹ کرا سکیں۔ اس کام کے لیے پوسٹ آفس میں چلنے والے آدھار سہولت مراکز کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آدھار نمبر سے بینک اکاؤنٹ لنک کرانے کے لیے بینکوں کے ساتھ بھی تال میل ضروری ہوگا۔
کسان کے آدھار سے منسلک بینک اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے رجسٹریشن کے دوران ہی ایک روپے کا ٹرانزیکشن مدھیہ پردیش اسٹیٹ سپلائی کارپوریشن کے ذریعے ای-اپارجن/جے آئی ٹی پورٹل کے ذریعے کرایا جائے گا۔
آدھار نمبر کی تصدیق
رجسٹریشن کرانے اور فصل فروخت کرنے کے لیے آدھار نمبر کی تصدیق کرانا لازمی ہوگا۔ تصدیق آدھار نمبر سے لنک موبائل نمبر پر موصول ہونے والے او ٹی پی یا بایومیٹرک ڈیوائس کے ذریعے کی جا سکے گی۔ کسان کا رجسٹریشن صرف اسی صورت میں ہو سکے گا جب کسان کے بھو-ابھیلیکھ کے کھاتے اور کھسرے میں درج نام کا آدھار کارڈ میں درج نام سے میل ہوگا۔ بھو-ابھیلیکھ اور آدھار کارڈ میں درج نام میں تضاد ہونے پر رجسٹریشن کی تصدیق تحصیل دفتر سے کرائی جائے گی۔ تصدیق ہونے کی صورت میں ہی مذکورہ رجسٹریشن قابل قبول ہوگا۔
کسانوں کو ایس ایم ایس کریں
گزشتہ ربیع اور خریف کے رجسٹریشن میں جن کسانوں کے موبائل نمبر دستیاب ہیں، انہیں ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ گاؤں میں ڈوڈی پٹواکر گرام پنچایتوں کے اطلاع ناموں پر رجسٹریشن کی اطلاع ظاہر کرانے اور کمیٹی/منڈی کی سطح پر بینر لگوانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ کسان رجسٹریشن کے تمام مراحل مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایات متعلقہ افسران کو دی گئی ہیں۔









