نئی دہلی، 13 نومبر (یو این آئی) – تجربہ کار تیز گیند باز محمد شامی ایک بار پھر خبروں میں ہیں، لیکن اس بار میدان کے باہر۔ آئی پی ایل 2026 سے پہلے شامی تین ٹیموں کے درمیان ہونے والی سہ رخی رسہ کشی کے بیچ میں آ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سن رائزرس حیدرآباد (ایس آر ایچ)، لکھنؤ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) اور دہلی کیپیٹلز (ڈی سی) تینوں ہی اس سینئر گیندبازوں کو اپنی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔35 سالہ محمد شامی نے اپنے 12 سالہ بین الاقوامی کیریئر میں ہندوستان کے لیے 64 ٹیسٹ، 108 ون ڈے اور 25 ٹی-20 بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں۔ وہ طویل عرصے تک ہندوستانی بولنگ اٹیک کے اہم ستون رہے ہیں۔اگر یہ معاہدہ طے پاتا ہے تو یہ یک طرفہ سودا ہوگا، یعنی نقدی پر مبنی ڈیل۔ امکان یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر معاہدہ نہیں ہوا تو شامی کو نیلامی پول میں شامل کیا جا سکتا ہے، لیکن اس وقت مکمل آل کیش ڈیل زیادہ ممکنہ دکھائی دے رہی ہے۔محمد شامی کو پچھلی میگا نیلامی میں سن رائزرس حیدرآباد نے 10 کروڑ روپے میں خریدا تھا، تاہم گزشتہ سیزن میں ان کی کارکردگی کچھ خاص نہیں رہی۔
انہوں نے صرف چھ وکٹیں حاصل کیں، اوسط 56.17 اور اکانومی ریٹ 11.23 رہا، جب کہ ان کے مجموعی کیریئر کے اعداد و شمار 28.19 اور 8.63 ہیں۔اب تک شامی 119 آئی پی ایل میچوں میں 133 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی بہترین کارکردگی گجرات ٹائٹنز کے ساتھ 2022 اور 2023 کے سیزن میں رہی، جب انہوں نے بالترتیب 20 اور 28 وکٹیں لے کر مجموعی طور پر 48 وکٹیں حاصل کیں۔ تاہم، چوٹ کی وجہ سے وہ آئی پی ایل 2024 میں حصہ نہیں لے سکے۔دہلی کیپیٹلز کی جانب سے شامی میں گہری دلچسپی کا اندازہ ٹیم کے ڈائریکٹر سورَبھ گانگولی کے حالیہ بیان سے ہوتا ہے۔ گانگولی نے کہا،”مجھے یقین ہے کہ سلیکٹرز محمد شامی پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ اگر آپ فٹنس اور مہارت کے لحاظ سے دیکھیں، تو وہ اب بھی وہی شامی ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا،”مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ شامی ہندوستان کے لیے ٹیسٹ، ون ڈے یا ٹی-20 کرکٹ کیوں نہ کھیل سکیں، کیونکہ ان کی صلاحیت اب بھی بے مثال ہے۔”

قابلِ ذکر ہے کہ محمد شامی نے مارچ میں دبئی میں کھیلے گئے چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کے بعد سے کوئی بین الاقوامی میچ نہیں کھیلا ہے۔ ان کی فٹنس پچھلے کچھ مہینوں سے ایک اہم موضوع بنی ہوئی ہے، جس پر چیف سلیکٹر اجیت اگرکر اور خود شامی کے درمیان عوامی سطح پر بیانات بھی سامنے آئے۔
تاہم، شامی نے حال ہی میں بنگال کی نمائندگی کرتے ہوئے رنجی ٹرافی کے تین میچوں میں 15 وکٹیں حاصل کر کے اپنی فٹنس اور فارم دونوں ثابت کر دی ہیں، اور یہی ان کے آئی پی ایل مستقبل کے لیے نیا دروازہ کھول سکتی ہے۔