حیدرآباد 17اکتوبر: حیدرآباد کے علاقے خیرت آباد کے رہائشی 37 سالہ محمد احمد اس وقت روس۔یوکرین جنگ کے محاذ پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں روس میں زبردستی فوج میں بھرتی کرکے جنگ میں لڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ محمد احمد، جو پیشے کے لحاظ سے ایک باؤنسر تھے، روزگار کے بہتر مواقع کی تلاش میں روس گئے تھے۔ انہیں ایک ممبئی کے ایجنٹ نے کنسٹرکشن کمپنی میں اعلیٰ تنخواہ والی ملازمت دینے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن روس پہنچنے کے فوراً بعد ان کی زندگی ایک خوفناک موڑ لے گئی۔ احمد کے اہلخانہ کے مطابق، وہاں پہنچتے ہی انہیں ایک فوجی کیمپ میں لے جایا گیا جہاں انہیں دس دن تک ہتھیار چلانے کی تربیت دی گئی۔ بعدمیں انہیں بتایا گیا کہ اب وہ جنگ کے لیے بھیجے جائیں گے۔ محمد احمد کی قریبی رشتہ دار فردوس بیگم نے ’ٹائمز آف انڈیا‘ سے بات کرتے ہوئے کہا : ’’انہیں بندوق تھما دی گئی ہے اور جنگ میں بھیج دیا گیا ہے۔ ان کی آخری اطلاع یوکرین کی سرحد کے قریب سے ملی۔ ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ انہیں جلد از جلد واپس لایا جائے۔‘‘ احمد نے کئی ہفتے تک یہ بات اپنے گھر والوں سے چھپائے رکھی، لیکن آخرکار روس سے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے اپنا درد بیان کیا۔