اچھے لوگوں کی اچھی باتوں کو یاد کرنا ۔ ان کی اچھی باتوں کو آگے بڑھانا ثواب جاریہ ہے ۔ محمد رفیع صاحب کی سالگرہ پر مجھے محمد رفیع صاحب کی زندگی کا ایک ایمان افروز واقعہ یاد آرہا ہے ۔ جسے میں قارئین کے لئے قلمبند کر رہا ہوں ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے چمن میں ہوتا ہے دیدہور پیدا
محمد رفیع صاحب کی آواز ہندوستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں پسند کی جاتی ہے ۔ اس لحاظ سے ان کی آواز تاریخ ساز آواز بن گئ ہے ۔ اسی لئے ہندوستان میں انھیں ہندوستان کا سب سے بڑا عزاز بھارت رتن دینے کی آواز شدت سے اٹھنے لگی ہے ۔ رفیغ صاحب ایک اچھے گائیک ہی نہیں اچھے انسان بھی تھے ۔ انکے مزاج میں سادگی اور انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ مجھے یاد آرہا کے وہ انتقال سے بہت پہلے حج کے لئے گۓ تھے ۔ کعبہ شریف کے قریب پہنچ کر وہ زار و قطار رونے لگ تھے اور توبہ کرنے لگے تھے ۔ وجہ تھی ان کا 1970 میں ریلیز ہوئی فلم دھرتی کا ایک مشہور گانا ۔ جسے رقم کیا تھا راجندر کرشن نے میوزک سے سنوارا تھا شنکر جے کشن نے اور گانے پر اداکاری کی تھی سپر اسٹار راجندر کمار اور وحید رحمان نے ۔جسکے ابتدائی بول تھے ۔ ” خدا بھی آسمان سے جب زمین پر دیکھتا ہوگا ۔ میرے محبوب کو کس نے بنایا سوچتا ہوگا ۔” ہندوستان میں ہی نہیں ساری دنیا میں اس گانے کی مقبولیت پر وہ جتنے خوش تھے مکہ مکرمہ میں کعبے کے سامنے وہ اپنی اس غلطی پر اس سے کئ زیادہ شرمندہ بھی تھے اور پشیمان بھی تھے ۔ آنسو ، پشمانی ، معافی اور توبہ یہ الللہ اور رفیع صاحب کے درمیان کامعاملہ ہے ۔ لیکن انکی یہ پشمانی اور توبہ ان کے نیک ہونے اور خداترس ہونے کا ثبوت ہے ۔ الللہ تعالی ایسے بندوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے ۔ الللہ تعالٰی رفیع صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے امین ثمہ آمین ۔
ڈاکٹر رونق جمال(چھتیس گڑھ ،انڈیا)
8839034844








