نئی دہلی 13ستمبر: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج منی پور کا مختصر دورہ کیا اور تقریباً 7300 کروڑ روپے پر مشتمل منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس معاملے میں کانگریس کا تلخ رد عمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی منی پور کا یہ دورہ متاثرین کے آنسو پونچھنے کے مقصد سے نہیں، بلکہ ریلوے پروجیکٹ کا افتتاح کرنے کے مقصد سے کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں وہ کہتی ہیں کہ ’’تشدد پیدا ہونے کے ڈھائی سال بعد آخر کار اس ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی آج منی پور جا رہے ہیں، لیکن سند رہے… وہ آج بھی وہاں پر لوگوں کے آنسو پونچھنے، نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے لوگوں سے ملنے، جن خواتین کو نوچا گیا ان کا حال جاننے یا امن کی اپیل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ریلوے پروجیکٹ کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں۔ اور شاید اسی لیے منی پور میں ان کی آمد کی مخالفت ہو رہی ہے۔‘‘ اس ویڈیو میں سپریا شرینیت کہتی نظر آ رہی ہیں کہ ’’بھلا کون بھول سکتا ہے جلتے ہوئے منی پور کو اس کے حال پر چھوڑ کر مودی جی دنیا ناپ رہے تھے۔ کون بھول سکتا ہے کہ جب تک اپنی حکومت پر نہیں آگئی، تب تک منی پور میں صدر راج تک نہیں نافذ کیا۔ کون بھول سکتا ہے کہ مودی جی منی پور کے نمائندوں تک سے نہیں ملے۔ کون بھول سکتا ہے آدم خوروں کی بھیڑ نے خواتین کے ساتھ کیا کچھ کیا، اور کیسے وزیر اعظم 78 دن بعد محض 36 سیکنڈ بول پائے تھے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’کون بھول سکتا ہے کہ اپوزیشن کو عدم اعتماد کی تحریک لانی پڑی، ورنہ مودی جی ایوان میں منی پور پر بولنے کے لیے تیار نہیں تھے، اور منی پور پر بولے بھی تو صرف 2 منٹ۔ کون بھول سکتا ہے کہ فوج سے بیرین سنگھ کی پولیس الجھ رہی تھی اور ان کے اوپر حملہ بھی کیا۔ کون بھول سکتا ہے کہ اسلحوں کی مستقل سپلائی بنی رہی، اور لوگ کھلے عام بندوق لہرا رہے تھے۔‘‘









