ممبئی 2ستمبر:مراٹھا ریزرویشن کو لے کر تحریک چلا رہے منوج جرانگے کو آزاد میدان خالی کرنے کے لیے کل یعنی 3 ستمبر کی صبح تک کا وقت دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ہائی کورٹ نے منگل (2 ستمبر) کی دوپہر 3 بجے تک آزاد میدان کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن منوج جرانگے اس کے لیے راضی نہیں ہوئے۔ اس درمیان ایک بڑی پیش رفت کے تحت مہاراشٹر حکومت نے ان کے 7 میں سے 5 مطالبات منظور کر لیے ہیں، جبکہ 2 مطالبات ابھی نہیں مانے گئے ہیں۔ منگل کو تامرگ بھوک ہڑتال کے پانچویں روز پولیس جب آزاد میدان خالی کرانے پہنچی تو جرانگے کے حامیوں اور پولیس کے درمیان بحث شروع ہو گئی۔ ہائی کورٹ میں کل 1 بجے دوبارہ اس معاملہ پر سماعت ہوگی۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد مہاراشٹر حکومت کا وفد جرانگے سے ملنے آزاد میدان پہنچا تھا۔ اس وفد میں مہاراشٹر حکومت کے 4 وزراء رادھا کرشن وکھے پاٹل، شِویندر راجے بھونسلے، جے کمار گورے اور مانک راؤ کوکاٹے تھے۔ چاروں وزراء نے جرانگے پاٹل کو ریزرویشن کے سلسلے میں کمیٹی کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں تمام معلومات فراہم کیں۔ اس کے بعد جرانگے پاٹل نے اعلان کیا کہ وہ ’جیت گئے۔‘ اس اعلان کے ساتھ ہی منوج جرانگے پاٹل نے اپنی بھوک ہڑتال بھی ختم کر دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق منوج جرانگے نے ریاستی وزراء کی موجودگی میں اپںے حامیوں سے کہا کہ ’’ہم جیت گئے۔ مہاراشٹر حکومت نے اگر مراٹھا ریزرویشن کے مطالبات کو لے کر سرکاری حکم جاری کر دیا تو آج رات 9 بجے تک ممبئی سے روانہ ہو جاؤں گا۔‘‘ منوج جرانگے نے مہاراشٹر حکومت کے سامنے مراٹھا برادری کو کنبی کا ایک حصہ بتانے والا سرکاری حکم (جی آر) جاری کرنے کے لیے 2 ماہ کا الٹی میٹم رکھا ہے۔ جرانگے کے حوالے سے یہ جانکاری بھی سامنے آ رہی ہے کہ مہاراشٹر حکومت نے مراٹھا ریزرویشن تحریک کے مظاہرین کے خلاف درج معاملے واپس لینے کا وعدہ کیا ہے۔ جرانگے پاٹل کا کہنا ہے کہ 58 لاکھ مراٹھا برادری کو جو کنبی کا سرٹیفکیٹ ملا ہے اس کی جانکاری گرام پنچایت کو دی جائے۔ جن مظاہرین پر مقدمات درج ہوئے ہیں، ان کے مقدمات واپس لیے جائیں گے، ایسا بھی وزراء کے وفد نے ہمیں یقین دلایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مراٹھا تحریک کے دوران جن کی موت ہوئی، ان کے خاندانوں کو مالی امداد ایک ہفتہ میں ملے گی۔ حکومت کی طرف سے نوکری بھی دی جائے گی۔