نئی دہلی 13دسمبر:مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کا نام تبدیل کیے جانے کی خبروں کے درمیان سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے اس مجوزہ فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے حکومت کے وسائل ضائع ہوتے ہیں اور اضافی مالی بوجھ بھی پڑتا ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر نام بدلنے کے پیچھے سوچ کیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس اسکیم کا تعلق مہاتما گاندھی کے نام سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق، کسی بھی اسکیم کا نام تبدیل کرنے کا مطلب صرف تختیاں بدلنا نہیں ہوتا بلکہ دفاتر، دستاویزات اور سرکاری ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنا پڑتی ہیں، جس پر خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم بعض میڈیا رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جمعہ کو ہوئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں منریگا کا نام بدل کر ’پوجیہ باپو گرامین روزگار یوجنا‘ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان ہی رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکیم کے تحت کام کے دنوں کی تعداد 100 سے بڑھا کر 125 کیے جانے کی تجویز کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ کانگریس کی ترجمان سپریہ شرینیت نے ایک ویڈیو بیان میں الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ 11 برسوں میں یو پی اے دور کی کم از کم 32 اسکیموں کے نام بدل کر انہیں اپنی کامیابی کے طور پر پیش کیا ہے۔
ن کا کہنا تھا کہ یہی منریگا، جسے وزیر اعظم نریندر مودی کبھی کانگریس کی ناکامی قرار دیتے تھے، آج دیہی ہندوستان کے لیے سہارا بنی ہوئی ہے۔







