ممبئی30اپریل: مراٹھا ریزرویشن کے معروف کارکن منوج جرانگے نے ایک بار پھر بھوک ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مہاراشٹر حکومت نے ان کی مانگیں پوری نہ کیں تو وہ 29 اگست سے ممبئی میں احتجاجی بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ انہوں نے مراٹھا برادری سے ’چلو ممبئی‘ کی اپیل بھی کی ہے۔ جرانگے نے اپنے آبائی گاؤں جالنا ضلع کے انتروالی سراٹی میں بدھ کو پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے ان سے جن چار مطالبات کو پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا، ان پر تین مہینے میں عمل درآمد ہونا تھا، مگر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے 30 جنوری کو اپنا انشن اس شرط پر روکا تھا کہ حکومت تین مہینے میں ہماری چار مانگیں نافذ کرے گی۔ اب تین مہینے گزر چکے ہیں، مگر کچھ نہیں ہوا۔‘‘ مراٹھا برادری کی مرکزی مانگ یہ ہے کہ انہیں ’کنبی‘ برادری کے طور پر تسلیم کیا جائے، تاکہ وہ او بی سی زمرے میں آ سکیں اور انہیں تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن حاصل ہو۔ اس حوالے سے حکومت نے جسٹس سندیپ شندے کی قیادت میں ایک پانچ رکنی کمیٹی بنائی تھی، جس نے ان افراد کو کنبی ماننے کا طریقہ طے کرنا تھا جن کے آبا و اجداد کے نزام دور کے دستاویزات میں کنبی لکھا گیا ہے۔ جرانگے نے کمیٹی کی رپورٹ پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت رپورٹ قبول کرے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم 29 اگست کو ممبئی جا کر بھوک ہڑتال کریں گے۔ اگر ہماری مانگیں 6 جون تک پوری نہیں کی گئیں تو ہم احتجاج میں شدت لائیں گے اور بلدیاتی انتخابات میں کسی کو جیتنے نہیں دیں گے۔‘‘









