بھوپال:13؍جنوری:(پریس ریلیز)اسلام ایک مکمل دین اور دستور زندگی کا نام ہے؛جس کی اپنی تہذیب، اپنی ثقافت، اپنے رہنے سہنے کے طور طریقے اور اپنے تہوار ہیں ،جو دیگرمذاہب سے بالکل جدا اور یکسر مختلف ہیں۔تہوار یا جشن کسی بھی قوم کی پہچان ہوتے ہیں اور اس کے مخصوص اعمال کسی بھی قوم کو دوسری اقوام سے جدا کردیتے ہیں۔جو چیز کسی قوم کی خاص علامت یا پہچان ہو ،اسلامی اصطلاح میں اسے شعیرہ کہا جاتا ہے ،جس کی جمع شعائر ہے ،اسلام میں شعائر مقرر کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ؛اسی لئے شعائر کو اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے ۔اس لحاظ سے مسلمانوں کے لئے صرف وہی تہوار منانا جائز ہے جو اسلام نے مقرر کر دئیے ہیں،ان کے علاوہ دیگر اقوام کے تہوار میں حصہ لینا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے۔
مذہبی تہواروں کو روایتی شان وشوکت سے منانا قوم سے وابستہ افراد میں اعتماد پیدا کرتا ہے اور ان میں دوسری قوموں سے برتر ہونے کا احساس اجاگر کرتا ہے ۔ ایک قوم کے افراد کا آپس میں تفاخر اور برتری کا اظہار توکوئی پسندیدہ امر نہیں؛ لیکن قومی سطح پر بہر حال یہ ایک مطلوب امر ہے، اپنے تہواروں سے وابستگی اور دیگر قوم کے تہواروں سے لاتعلقی ہمارے دین وایمان کی بقا اور تحفظ کے لئے نہایت ضروری ہے ؛یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺنے مدینہ تشریف آوری کے بعد وہاں کے علاقائی تہواروں کو منانے کے بجائے مسلمانوں سے فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے تمہیں (جاہلیت کے تہواروں سے کہیں بہتر)عید الفطر اور عید الاضحٰی کے دو دن عطا فرمائے ہیں۔”(ابوداؤد)
بسنت (سنکرانتی)کی حقیقت:
برادران وطن کے مرکزی تہواروں میں جہاں دیوالی اور ہولی وغیرہ قابل ذکر ہیں، وہ ہے ںبسنت جسے”مکر سنکرانتی“ بھی کہاجاتاہے، جنوری کے در میانی حصے میں چودہ تاریخ کو منایا جانے والا تہوارہے ؛جس کو منانے کی تیاری بھی بہت پہلے سے شروع کردی جاتی ہے اور برصغیر سمیت مختلف خطوں میں نئے اندازسے لوگ اس کا اہتمام کرتے ہیں ۔ عمومی طورپر بسنت کے سلسلہ میں دو طرح کے نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں :
بسنت کوئی مذہبی تہوار نہیں ؛بل کہ محض ایک تفریح و دل چسپی کا سامان ہے،چوں کہ سردیوں کا موسم ختم ہو رہا ہوتا ہے،جو لوگ موسم کی شدت کی وجہ سے گھروں میں بند تھے ، درجہ حرارت مناسب ہونے پر گھروں سے باہر آتے ہیں اور خزاں اور سرما کی بے رنگی اور بدمزگی جو ان کے مزاج اور آنکھوں پر چھائی ہوئی تھی پتنگ بازی کے ذریعہ اس کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس طرح بسنت کو موسمی تہوار سمجھ کر وہ مسلمان بھی شریک ہوجاتے ہیں جنہیں حقیقت سے مکمل واقفیت نہیں اور سوائے سرسوتی پوجا کے اس میں وہ تمام کام انجام دیتے ہیں جو اہل ہنود میں رائج ہیں۔
اس کے برعکس دوسرا نظریہ یہ ہے کہ اس تہوار کاتعلق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے ایک شخص سے ہے ؛جس کا ذکر ایک ہندو مؤرخ نے اپنی کتاب میں کیا ہے ۔اس حساب سے بسنت ایک موسمی تہوار نہیں بلکہ مذہبی جشن ہے،جیساکہ اس کا ذکر ہندو مذہبی کتب میں آتا ہے؛جس کے مطابق پتنگ پر دو آنکھیں یا دوسری شکلیں بنا کر آسمان سے نازل ہونے والی بلائیں دور کی جاتی ہیں۔بہرحال اس اختلاف سے قطع نظر کہ یہ موسمی رسم ہے یا مذہبی تہوار؟ بہ حیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم غیر مسلموں کے شانہ بشانہ اسے منانے سے مکمل اجتناب کریں !
آپ نے اہل عرب کی عادت کے برعکس بیٹھ کر پیشاب (کرنے کا رواج عام) کیا تو وہ تعجب اور حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ دیکھو :ایسے پیشاب کرتا ہے جیسے عورتیں…”
ماہانہ ایام میں عورت سے روا رکھے جانے والے غیر انسانی اور غیر اخلاقی یہودی رویے کے برعکس آپ نے جنسی تعلقات سے ہٹ کر دیگر تمام تعلقات باقی رکھنے کی اجازت دے دی۔ تو اس پر بھی یہودی چلائے تھے کہ «:
ترجمہ :ہر تہذیب کا نمائندہ بنیادی یونٹ گھر ہوتا ہے۔ یہود کے گھر گندگی کے ڈھیر ہوتے تھے۔ آپ نے اس حوالے سے ان کی مشابہت سے منع فرمایا:اور ایک حدیث میں اپنے گھر بار کو صاف ستھرا رکھنے کی تلقین کی، ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہودی صاف ستھرا نہیں رکھتے۔
تم اپنے گھر بار کو صاف ستھرا رکھا کرو۔ یہود اپنے گھروں کوصاف ستھرا نہیں رکھتے۔
آپ نے گھر بار کے حوالے سے یہودیوں کے گندے کلچر کے مقابلے میں انتہائی صاف ستھرا کلچر پیش کیا بلکہ اسلامی کلچر میں فرما کر ہر طرح سے صفائی کو نصف ایمان ٹھہرایاگیا۔