نئی دہلی 9مارچ: لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے پیر کے روز ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی پر ’بلیک میل ہونے‘ کا سنگین الزام عائد کیا۔ انھوں نے میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’پی ایم مودی بلیک میل ہو چکے ہیں، وہ پوری طرح سمجھوتہ کر چکے ہیں اور اسی وجہ سے پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر بحث سے راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’’اب وہ (پی ایم مودی) پارلیمنٹ کے اندر نہیں آ پائیں گے۔‘‘ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ سے ہندوستانی معیشت متاثر ہو رہی ہے، اسے شدید نقصان ہونے والا ہے، لیکن ’کمپرومائزڈ‘ وزیر اعظم میں اس پر بحث کرنے کی ہمت نہیں ہے۔مہنگائی اور معاشی پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ مغربی ایشیا کی صورت حال عوام سے جڑا ہوا مسئلہ ہے اور اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ اپوزیشن اس موضوع پر بحث کا مطالبہ اس لیے کر رہی ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر ملک کی عوام اور ہندوستانی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ شیئر بازار گر رہا ہے، ایل پی جی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عالمی خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔ اس کا سیدھا اثر ہندوستان کے عام آدمی، گھریلو بجٹ اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں پر پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں کہا کہ مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازعہ کا اثر ہندوستان کی توانائی سیکورٹی پر پڑ رہا ہے اور اس کا اثر ملک کی معاشی استحکام پر بھی پڑے گا۔
راجیہ سبھا میں اپنے خطاب میں ہندوستانی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو ظاہر کرتے ہوئے کانگریس صدر نے بتایا کہ مغربی ایشیا میں بڑھتا ہوا تناؤ صرف اسی خطے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اثر ہندوستان کی توانائی کی سیکورٹی پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی شبیہ بھی متاثر ہو رہی ہے۔