بھوپال، 11 دسمبر : مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے ریاست کی ابتر معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موہن یادو حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت ریاست کو دیوالیہ ہونے کے دہانے پر لے آئی ہے اور حالات یہ ہیں کہ حکومت چلانے کے لیے سرکاری املاک بیچی جا رہی ہیں۔
جیتو پٹواری نے انکشاف کیا کہ حکومت روزانہ 165 کروڑ روپے کا قرض لے رہی ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ پرانے قرض کا سود چکانے کے لیے بھی مزید قرض لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اب تک 101 سرکاری املاک کو 1,100 کروڑ روپے میں فروخت کر چکی ہے، جن میں ممبئی اور کیرالہ میں واقع ریاست کی قیمتی جائیدادیں بھی شامل ہیں جنہیں خاموشی سے نیلام کر دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ پر فضول خرچی کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ جہاں ایک طرف ریاست کا کسان قرض کے بوجھ تلے دب کر خودکشی کر رہا ہے اور نوجوان بے روزگار گھوم رہے ہیں، وہیں دوسری طرف وزیر اعلیٰ کے دوروں پر روزانہ تقریباً 3 کروڑ روپے اور ہوائی سفر پر 25 لاکھ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ’مودی کی گارنٹی‘ کو ناکام قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ بیدار ہوں اور حکومت سے سوال کریں کہ آخر ان کے مستقبل کی بنیاد اور قیمتی اثاثے کیوں بیچے جا رہے ہیں۔