نئی دہلی 23اکتوبر:انسدادِ بدعنوانی ادارے لوک پال نے سات مہنگی بی ایم ڈبلیو کاروں کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے، جس پر سابق آئی پی ایس افسر کرن بیدی نے سخت تنقید کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’لوک پال فضول خرچی کے لیے نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ ایمانداری اور دیانت کے جذبے سے جنم لینے والا ادارہ ہے۔‘‘ یاد رہے کہ کرن بیدی نے 2013 میں انا ہزارے کے ساتھ دہلی میں دھرنے میں شرکت کی تھی، جس کا مقصد لوک پال قانون کو نافذ کرانا تھا۔ ’’عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے لوک پال کو یہ کہنا چاہئے کہ ہم دیسی گاڑیاں خریدیں گے۔ جب وزیر اعظم نریندر مودی ’سوَدیشی‘ پر زور دے رہے ہیں تو لوک پال غیر ملکی گاڑیاں کیوں خرید رہا ہے؟ کیا بھارت میں اچھی معیار کی دیسی گاڑیاں موجود نہیں؟ یہ فیصلہ سوَدیشی مشن کے بالکل خلاف ہے۔‘‘ ’’لوک پال دیانت داری، سچائی اور محنت کے جذبے سے پیدا ہوا تھا، نہ کہ شان و شوکت کے لیے۔ میرا ماننا ہے کہ لوک پال نے اب تک اپنی ذمہ داری نبھائی نہیں۔ اسے سوَدیشی الکٹرک گاڑیاں استعمال کرنی چاہئیں۔‘‘ رپورٹ کے مطابق لوک پال نے سات بی ایم ڈبلیو گاڑیاں خریدنے کے لیے جو ٹینڈر جاری کیا ہے، ان کی مجموعی لاگت تقریباً 5 کروڑ روپے ہے، جو اس کے سالانہ بجٹ کا 10 فیصد سے زیادہ ہے۔ دستاویزات کے مطابق لوک پال کا سال 2025-26 کا بجٹ 44.32 کروڑ روپے ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2023-24 میں ’’موٹر گاڑیوں‘‘ کے لیے 12 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے، لیکن ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا۔ اس سے قبل بھی لوک پال کے پاس گاڑیوں پر کوئی خرچ ریکارڈ میں نہیں تھا۔اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس فیصلے کو اخلاقی دیوالیہ پن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو ادارہ ایمانداری کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا، وہ خود عیش و عشرت کی دوڑ‘‘ میں لگ گیا ہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ : ’’اب لوک پال نہیں بلکہ ’شوق پال‘ بن گیا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ لوک پال نے آج تک کس بڑی بدعنوانی کے معاملے میں کارروائی یا گرفتاری کی ہے؟ کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بھی ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا : ’’جب سپریم کورٹ کے ججز کے لیے معمولی سیڈان کاریں دی جاتی ہیں تو لوک پال کے چیئرمین اور چھ ممبران کو بی ایم ڈبلیو کی کیا ضرورت ہے؟ عوام کے پیسے سے یہ شاہانہ خرچ کیوں؟ امید ہے کہ کم از کم ایک یا دو ممبران ان گاڑیوں کو لینے سے انکار کریں گے۔‘‘