بھوپال:31؍اگست:اتوار کی شام، راجدھانی بھوپال میں پنچھی کیفے اینڈ ریسٹورنٹ، پربھات چوراہے پر اہلِ ادب کے لیے ایک خاص موقع رہا۔ “شاید” کے زیرِ اہتمام منعقدہ ادبی پروگرام میں نہ صرف ضلع بلکہ مدھیہ پردیش کے مختلف حصوں سے آئے نوجوان تخلیق کاروں نے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔اس اسٹیج پر نوجوان موسیقاروں، شعراء، غزل گو اور کہانی کاروں نے اپنی تخلیقات سے سامعین کو مسحور کر دیا۔پروگرام میں ہندی، اردو اور انگریزی زبانوں کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔شائقینِ فن بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور نوجوان فنکاروں کی حوصلہ افزائی کی۔ اس انعقاد کا بنیادی مقصد بھوپال کی نوجوان صلاحیتوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا تھا تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتیں بانٹ سکیں۔
پروگرام کی نظامت پردیومن تومر نے کی۔ اسٹیج پر اپنی تخلیقات کے ساتھ انجینئر اورنگ زیب اعظم، مینل پُروی، انور شان، شِو “شِلپی”، الکیش چڈوکر، نوینیش مہولے، جیوتی شکھا، لکشے سینی، دیپیندر ملک اور ویشالی سکسینہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر نوینیش مہولے نے اپنی نظم “شیتل جل سا نام تمہارا میں ایک باغی پیاسی ہوں” سنائی۔ وہیں ویشالی سکسینہ نے اپنی نظم “ارے او جلنے والو، تمہیں تو ننگا جلایا جائے گا” پیش کی۔ لکشے سینی نے اسٹینڈ اَپ سے محفل کو گرما دیا۔ مینل نے ’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر‘ سے جادو بکھیر دیا۔رنگکار بیکُھد شجاع پوری نے اپنی غزل سنا کر سامعین کی بھرپور داد حاصل کی۔