بھوپال:02؍مارچ:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ریاست کے جنگلات حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے مسلسل مالا مال ہو رہے ہیں۔ مرکزی وزیر جنگلات مسٹر بھوپیندر یادو کی جانب سے ہفتہ کے روز بوٹسوانا، افریقہ سے لائے گئے 9 چیتوں کو کونو نیشنل پارک میں چھوڑا گیا ہے۔ اس اہم اقدام نے جنگلی حیات کے تحفظ کی سمت میں مدھیہ پردیش کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے اور جنگلی جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے بھارت کا نام عالمی سطح پر قائم کیا ہے۔ ایشیا سے جو چیتا ناپید ہو گیا تھا، آج اس کی نسل دوبارہ آباد ہو رہی ہے۔ ریاست میں اب چیتوں کی کل تعداد 48 ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی مدھیہ پردیش ملک میں سب سے زیادہ ٹائیگرز اور سب سے زیادہ چیتوں والا صوبہ بن گیا ہے۔ گھڑیال کے معاملے میں بھی مدھیہ پردیش ملک میں نمبر ون ہے۔ حالیہ گِدھوں کی گنتی کے مطابق بھی ریاست حیاتیاتی تنوع میں مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ مسٹر یادو نے یہ معلومات گوالیار ہوائی اڈے پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کے دوران دی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ آج بھی کونو دریا میں نایاب نسل کے کچھوے اور گھڑیال چھوڑے جا رہے ہیں۔ یہ ریاستی حکومت کی آبی جانوروں کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ جنگلی جانوروں کے تحفظ سے بڑھتی حیاتیاتی تنوع کے سبب ریاست میں سیاحت کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جس سے لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع بھی مل رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کی کوشش ہے کہ ان سرگرمیوں کا فائدہ سب تک پہنچے۔قابلِ ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو ریاست میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی سمت ایک تاریخی قدم آگے بڑھاتے ہوئے آج نایاب نسل کے 33 کچھوے اور 53 گھڑیال کونو دریا میں چھوڑ رہے ہیں۔ جن کچھوؤں کو دریا میں چھوڑا جا رہا ہے وہ مرینا کے کچھوا مرکز برہئی سے لائے گئے ہیں۔
تیس میں سے 25 کچھوے تین پٹی دار چھت والے اور 8 بھارتی فلیپ شیل کچھوے ہیں۔ دیوری گھڑیال مرکز سے لا کر 53 گھڑیال کونو دریا میں چھوڑے جا رہے ہیں۔
یہ کچھوے اور گھڑیال گنگا اور برہم پتر دریا کے علاقوں میں پائی جانے والی نایاب آبی نسلیں ہیں، جو حیاتیاتی تنوع کی انمول وراثت ہیں اور دریاؤں کے قدرتی توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان نسلوں کو بین الاقوامی ادارہ انٹرنیشنل یونین فار کنجنرویشن آف نیچرکی ریڈ لسٹ میں خطرے سے دوچار زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ریاستی حکومت ان کے تحفظ کے لیے بامعنی کوششیں کر رہی ہے۔