نئی دہلی، 26 مئی (یو این آئی) کبڈی دراصل ایک ثقافتی اور قدیم کھیل ہے ۔ کبڈی دنیا کے سستے ترین اور دلچسپ کھیلوں میں سے ایک مانا جاتاہے جس کے لئے ما سوائے اکھاڑے یامیدان کے کسی اور سامان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اکھاڑے میں اپنے حریف کو چُھونے کے لیے اس کے مقابل ہونا اور پھر اس کی گرفت سے بچنے کی کوشش کرنا قدیم کھیل، کبڈی کی ایک عام شکل ہوتی ہے۔ یہ کھیل ہمیشہ سے دیہات اور چھوٹے شہروں میں مقبول رہا ہے۔ کھلاڑیوں کی جانب سے طاقت اور ذہانت کا یہ مظاہرہ کبڈی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دنیا میں یہ کھیل دو طرح سے کھیلا جاتا ہے جس میں ایک علاقائی یا مقامی مقابلہ اور دوسرا عالمی قواعد اور اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ اسے ہم روایتی کبڈی اور انٹرنیشنل کبڈی کہہ سکتے ہیں جس میں سب سے بڑا فرق قوانین اور معیار کا ہوتا ہے۔
کھیلوں میں کبڈی کو ایک دلچسپ گیم شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں کھلاڑی کو ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہے۔ اپنے بچاؤ کے لئے بھی خود ہی فکر مند رہ کر بچاؤ کا طریقہ سوچنا پڑتا ہے۔ یہ کھیل ہر موسم میں کھیلا جاتا ہے۔ کبڈی میں ایک جواں مرد میدان میں اترتا ہے اور اپنے حریف کا للکارتا ہے۔ دست بدست لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔ کبڈی کے کھیل میں جسمانی طاقت کو بہت دخل ہے۔ مضبوط ہاتھ پاؤں، چوڑا چکلا سینا، ورزشی جسم، تیز دوڑنا، سانس روکنے کی مشق اور ہار جیت کا فیصلہ، یہ سب کبڈی کے اچھے کھلاڑیوں کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ ان خصوصیات کے حامل ایک ایرانی کبڈی کھلاڑی معراج شیخ ہیں جو ایک پیشہ ور کبڈی کھلاڑی ہیں جو آخری مرتبہ دبنگ دہلی کے لیے کھیلے تھے۔
معراج شیخ، 26 مئی 1988 کو پیدا ہوئے۔ معراج شیخ ایران کے ایک نامور کبڈی کھلاڑی ہیں۔ کبڈی میں ان کا سفر کم عمری میں شروع ہوا، جس نے غیر معمولی صلاحیتوں اور لگن کا مظاہرہ کیا۔ کبڈی میٹ پر شیخ کی مہارت نے اسے جلد ہی ایک شاندار پہچان دلائی، اور وہ ایرانی قومی ٹیم اور مختلف پیشہ ورانہ لیگ دونوں کے لیے ایک اہم کھلاڑی بن گئے۔ معراج اپنی چستی، اسٹریٹجک گیم پلے، اور قائدانہ خصوصیات کے لیے جانا جاتا ہے، انہوں نے بین الاقوامی مقابلوں میں اپنی ٹیموں کو متعدد فتوحات دلائی ہیں۔
کبڈی کے علاوہ، شیخ کو ان کے کھیل اور نرم مزاج کے لیے سراہا جاتا ہے۔ کبڈی میں ان کی شراکت نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں اور شائقین کو بہت متاثر کیا ہے۔