بھارتیہ صحافت کی تاریخ میں مولوی محمد باقرکا نام سنہری حروف میں درج ہے۔ وہ نہ صرف اردو صحافت کے اولین شہیدوں میں ہیں بلکہ اُنہوں نے اپنی جان قربان کر کے اس بات کو ثابت کیا کہ قلم کی حرمت جان سے بڑھ کر ہے۔ اُن کی ولادت 25؍ ستمبر 1780ء کو ہوئی، اب چاروں طرف سے محبان اُردو اور محبان صحافت کی یہ گونج سنائی دے رہی کہ ہر سال اسی دن کو ــ’’یومِ شہیدانِ صحافت‘‘ کے طور پر منایا جائے، تاکہ اُن کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے نئی نسل کو سچی صحافت کی راہ دکھائی جا سکے۔
مولوی محمد باقر 1836ء میں ”دہلی اردو اخبار” کے بانی اور مدیر تھے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی میں ان کا اخبار انگریزوں کے خلاف عوامی جذبات کو بیدار کرتا رہا۔ وہ کلمۂ حق بلند کرنے والے صحافی تھے۔ مولوی محمد باقر ایک ایسے صحافی اور مجاہد آزادی ہیں جنہوںنے اپنی جان دے کر صحافت کی دنیا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر کر دیا۔ انہیں برطانوی سامراج کے آفسر میجر ولیم ہڈسن نے توپ کے دہانے پر باندھ کر شہید کر دیا۔ یہ قربانی صحافت کی تاریخ میں پہلی شہادت تھی، جس نے اردو صحافت کو عزت، وقار اور ایک ابدی وراثت عطا کی۔
اب تک بھارت میں صحافت سے وابستہ کئی یادگار دن منائے جاتے ہیں، لیکن صحافیوں کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کوئی مخصوص دن طے نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب 25؍ ستمبر یوم پیدائش مولوی محمد باقر کو ”یومِ شہیدانِ صحافت” کے طور پر منانے کی ایک نئی روایت کی مانگ آج پورے بھارت میں اُٹھ رہی ہے اور نہ صرف مطالبہ ہو رہا ہے بلکہ کئی جگہوں پر باقاعدہ طور پر منایا بھی جا رہا ہے۔ نیز یہ مطالبہ بھی زور و شور سے کیا جارہا ہے کہ مولوی محمد باقر کے نام سے ہر صوبہ میں ایک یونیورسٹی قائم کی جائے۔ انکے یوم پیدائش کا دن صرف مولوی محمد باقر ہی نہیں بلکہ اُن سب شہید صحافیوں کی یاد کا دن ہوگا جنہوں نے حق گوئی کی راہ میں اپنی جانیں قربان کیں۔
مولوی باقر کے بعد بھی اردو صحافت نے آزادی کی تحریک میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ جن میں مولانا ابوالکلام آزاد کے ”الہلال” اور ”البلاغ” نے قوم کو بیدار کیا۔وہیں حسرت موہانی جیسے صحافیوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ آزادی کے بعد بھی کئی صحافیوں نے سچائی کی خاطر اپنی جانیں دی ہیں ان تمام کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہی یوم شہیدان صحافت منایا جاتا ہے۔
موجودہ دور میں صحافت کو کئی نئے چیلنجز درپیش ہیں: آزادانہ صحافت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ سچ لکھنے والے صحافی آج بھی جان کا خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ خاص طور پر اردو صحافت وسائل کی کمی اور حکومتی بے اعتنائی کا شکار ہے۔ تمام اخباروں اور میگزین کو وقتاً فوقتاً اشتہارات دئیے جاتے ہیں لیکن اُردو میڈیا اور اُردو اخباروں کو مستثنیٰ رکھا جاتا ہے ۔یہ تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟
یومِ شہیدانِ صحافت اس پس منظر میں ایک نئی امید ہے، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر مولوی باقر توپ کے دہانے پر قربان ہو سکتے ہیں تو آج ہم کیوں حق اور سچ کی آواز بلند کرنے سے ڈریں؟ کیا ہمارا آئین ہمیں اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کا حق نہیں دیتا؟ کیا ہمارا ملک جمہوری ملک نہیں ہے؟ یقینا ہمیں ہر چیز کی آزادی آئین کے تحت ملی ہوئی ہے جس کا استعمال ہر ایک باشعور انسان کو کرنا چاہئے اسی کی ایک کڑی اور ایک سلسلہ یوم شہیدانِ صحافت ہے جس کا چرچہ آج ہر سمت ہو رہا ہے۔25 ستمبر کو منائی جانے والی یہ نئی روایت محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ دن اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ صحافت کا اصل مقصد صرف خبر رسانی نہیں بلکہ عوام کے حق میں سچ لکھنا، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور قربانی کی روایت کو زندہ رکھنا ہے۔اُن کے نام پر ہر صوبہ میں ایک یونیورسٹی بنائی جائے نیز مولوی محمد باقر شہید کے نام سے ہر صوبے میں طلبہ کے لئے اسکالرشپ جاری کی جائے،یہی ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔
یقیناً، یومِ شہیدانِ صحافت کو زور و شور سے منانا اردو صحافت کی بقا، آزادیٔ اظہار کی حفاظت اور سچی صحافت کی ترویج کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ یہی مولوی محمد باقر اور دیگر شہیدانِ صحافت کو سچی خراجِ عقیدت ہوگی۔