پٹنہ 4اپریل:وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ سے پاس ہو گیا، اور اب قانون کی شکل اختیار کرنے کے لیے صرف صدر جمہوریہ کی منظوری باقی ہے۔ اس بل کی حمایت این ڈی اے کی سبھی پارٹیوں، بشمول جنتا دل یو نے کیا، جس سے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ناراض دکھائی دے رہا ہے۔ یہ بل پارلیمنٹ سے پاس ہونے کے بعد بہار میں کچھ زیادہ ہی سیاسی ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے۔ نتیش کمار کی جنتا دل یو میں ایک افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا ہے اور کئی لیڈران نے پارٹی کے موقف سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دراصل وقف ترمیمی بل کی حمایت کے سبب جنتا دل یو کے مسلم لیڈران بہت ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ یکے بعد دیگرے 4 لیڈران نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور کئی قطار میں بتائے جا رہے ہیں۔ جن جنتا دل یو لیڈران نے استعفیٰ دیا ہے، ان میں اقلیتی سیل کے ریاستی سکریٹری محمد شاہنواز ملک، ریاستی جنرل سکریٹری محمد تبریز صدیقی علیگ، بھوجپور سے پارٹی رکن محمد دلشان راعین اور جنتا دل یو کے مشرقی چمپارن ضلع طبی سیل کے ترجمان قاسم انصاری شامل ہیں۔ ان سبھی لیڈران نے وقف ترمیمی بل پر جنتا دل یو کے رخ پر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے، اور پارٹی پر لاکھوں مسلمانوں کا بھروسہ توڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔