سری نگر15نومبر: جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ نالین پربھات نے ہفتے کی صبح ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوگام پولیس اسٹیشن میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہونے والا زوردار دھماکہ کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ مکمل طور پر ایک حادثاتی دھماکہ تھا۔ پولیس سربراہ کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم پولیس اسٹیشن کے احاطے میں بڑی مقدار میں برآمد شدہ دھماکہ خیز مواد کے نمونے لے رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے حوالے سے افواہوں اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے کیونکہ اب تک کی تحقیقات میں کسی دہشت گردانہ زاویے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ نالین پربھات نے بتایا کہ نوگام پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر نمبر 162/2025 کی بنیاد پر 9 اور 10 نومبر کو ہریانہ کے فرید آباد سے بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد، کیمیکلز اور ریجنٹس برآمد کیے گئے تھے۔ مقررہ ضابطوں کے مطابق یہ مواد پولیس اسٹیشن کے وسیع احاطے میں محفوظ رکھا گیا تھا، جبکہ اس کا کچھ حصہ فارنسک اور کیمیکل معائنے کے لیے بھیجا جانا تھا۔ پولیس چیف کے مطابق برآمد شدہ مواد کی نوعیت انتہائی حساس اور غیر مستحکم تھی، اسی وجہ سے ایف ایس ایل ٹیم دو روز سے نمونے لینے کے پیچیدہ عمل میں مصروف تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’نمونے لینے کا یہ عمل انتہائی احتیاط اور مہارت کا متقاضی تھا لیکن بدقسمتی سے جمعہ کی رات تقریباً 11 بج کر 20 منٹ پر حادثاتی طور پر دھماکہ ہوا جس نے پورے علاقے کو دہلا دیا۔‘‘ اس حادثے میں 9 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ریاستی تفتیشی ایجنسی (ایس آئی اے) کا ایک اہلکار، ایف ایس ایل کے تین ماہرین، کرائم برانچ کے دو فوٹوگرافر، مجسٹریٹ ٹیم کے دو ریونیو اہلکار اور ٹیم کے ساتھ موجود ایک درزی شامل ہے۔ پولیس سربراہ نے مزید بتایا کہ اس دھماکے میں 27 پولیس اہلکار، دو ریونیو اہلکار اور قریبی علاقوں سے تعلق رکھنے والے تین عام شہری زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں انہیں علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
مال بردار ٹرین کے ڈبے میں آتشزدگی
بریلی، 15 نومبر (یو این آئی) اتر پردیش میں بریلی ریلوے جنکشن کے قریب ہفتہ کے روز اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب مراد آباد سے مہاراشٹر جانے والی مال بردار ٹرین کے ڈبے سے اچانک دھواں اٹھنے لگا۔ دھنواں سے اسٹیشن پر کھڑے مسافروں اور ریلوے ملازمین میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پلیٹ فارم پر موجود لوگوں نے فوری طور پر اسٹیشن انتظامیہ کو صورتحال سے آگاہ کیا۔