بھوپال:17؍فروری 🙁 رپورٹر )ہندی بھون کے نریش مہتا ہال میں ” مجلسِ اقبال” اور بزم “آکار” کی جانب سے ہندی ،اردو کہانیوں کی قراءت کا اہتمام کیا گیا پروگرام کی صدارت فرما رہے سینئر ادیب،شاعر،صحافی اور ناقد جناب اقبال مسعود نے اپنے صدارتی خطبے میں فرمایا ” کہانی کے سفر کا آغاز ہندوستان سے ہوا،ہم نے دنیا کو کہانی کے ذریعے محبت و یکجہتی کا پیغام دیا، ہم ہندی اور اردو کے بیچ کی نقلی دیوار کو گرانا چاہتے ہیں “مہمان خصوصی اور نامور قلمکار ڈاکٹر نرنجن شروتی نے کہانیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ” رانی سمیتا کی کہانی ایسی کہانی ہے جو ہمیں اپنے بچپن کی یاد دلاتی ہے _”سنگھرش ورام” کسی یدھ کا سنگھرش ورام نہیں ہے بلکہ باپ_بیٹے کی تمناؤں اور امیدوں کے درمیان ایک مصالحت ہے،ڈاکٹر نفیسہ سلطانہ” انا” کی کہانی” چنیٹیوں کا گھر”ایک نہایت دلسوز کہانی ہے اس کہانی نےہم سب کی آنکھیں نم کر دیں _اس کہانی میں معاشرے اور نسل نو کی بے حسی پر نصیحت آمیز زبردست طنز شامل ہے۔معروف کہانی کار مظفر اقبال صدیقی نے اپنی استقبالیہ تقریب میں کچھ اس طرح اظہارِ خیال کیا _۔
کہانی کسی بھی ادب کی ایک ایسی صنف ہے جو مختلف تہذیبوں کی بھرپور نمائندگی کرتی ہے _یہ تہذیبیں ایک دوسرے سے کچھ اس طرح سے وابستہ ہیں جیسے ندی کہ دونوں ساحلوں پر بسنے والے لوگ _ضرورت اس بات کی ہےکہ ہم ان ساحلوں کے درمیان مضبوط پل تعمیر کریں،پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے معروف ادیب و ناظم محمود ملک نے دوران نظامت کہا کہ” ہر انسان کی زندگی ایک طویل داستان ہوتی ہے اور یہ داستان کئی واقعات جذبات واحساسات اور دکھ سکھ کے تانے بانے سے بنی گئی مختلف کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ کہانیوں کی اس خوبصورت محفل میں شہر کے کئی معتبر قلمکاروں اور معزز شخصیات نےاپنی شرکت سے محفل کو اور بھی پر وقار بنا دیا ان میں سے چند نام اس طرح ہیں۔کرنل گرجیش سکسینہ، محمد یوسف ،اودے کمار سنہا ،ثروت زیدی، عابد کاظمی، ڈاکٹر شکیل خان ، عظیم اثر، انیتا سنگھ چوہان ،ڈاکٹر جاوید نعمانی، عاصم حسین فاروقی، آدتیہ ہری گپتا اور محمد مبشر وغیرہ وغیرہ،پروگرام کے اختتام پر محمودملک نے تمام سامعین ،مہمانان اور قلمکاروں کا شکریہ ادا کیا۔