تہران 8اگست: ایران امریکہ جنگ کے چھ ماہ بعد تہران اور واشنگٹن دونوں عوامی سطح پر اتحاد کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ لیکن اندرونی بے چینی اب ابھر رہی ہے۔ جنگ کے چھ ماہ بعد، دونوں طرف کی اعلیٰ قیادت ایک ہی پیغام دے رہی ہے: ان کے اندر کوئی تقسیم نہیں ہے۔ تاہم دو حالیہ رپورٹس اس دعوے پر سوال اٹھاتی ہیں۔ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ٹرمپ انتظامیہ کو واضح طور پر اشارہ دیا ہے کہ جنگ اس سمت نہیں جا رہی جس کا ابتدائی تصور کیا گیا تھا۔ اسے اب ختم ہونا چاہیے۔ ادھر ایرانی صدر مسعود پیزشکیان بھی مسلسل واضح کر رہے ہیں کہ ایرانی حکومت اور فوج کے درمیان کوئی دراڑ نہیں ہے۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی نہیں ہے تو وہ یہ بیان دینے پر کیوں مجبور ہیں ؟ تاہم ایران پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے۔ اس نے پہلے کہا ہے کہ ہر وہ ملک جو امریکہ کی حمایت کرے گا امریکی حملوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق اعلیٰ امریکی فوجی افسر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے نجی طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے اندر واضح کر دیا ہے کہ ایران کو صرف بمباری سے زیر نہیں کیا جا سکتا۔
کین سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، اور نائب صدر جے ڈی وانس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جرنیل اب ایک ’آف ریمپ‘ کی تلاش میں ہیں۔ “آف ریمپ” کا مطلب ہے اس جنگ سے نکلنے کا راستہ بغیر کسی نقصان کے اور وقار کے ساتھ۔ دوسرے لفظوں میں، ٹرمپ جس جنگ کو “فضائی طاقت سے جیتنے” کی بات کررہے ہیں ،وہیں ان کے اپنے ٹاپ جنرل سوال اٹھارہے ہیں سے سوال کیا جا رہا ہے۔ سب سے بہترین راستہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا مانا جارہاہے۔