ہر سال 16 جنوری کو دنیا بھر میں مذہبی آزادی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ انسانیت کو یہ یاد دلانا ہے کہ مذہبی آزادی کسی رعایت کا نام نہیں، بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ یہ دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مختلف مذاہب، عقائد اور تہذیبوں کے ماننے والے اگر باہمی احترام اور برداشت کے ساتھ رہیں تو معاشرہ امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بھارت جیسے جمہوری اور آئین پر مبنی ملک میں آج مذہبی آزادی کے تصور کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ اقلیتی برادریاں، خصوصاً مسلمان اور عیسائی، آئے دن مذہبی تعصب، نفرت انگیز رویّوں اور امتیازی سلوک کا شکار نظر آتی ہیں۔ کہیں عبادات پر قدغن لگائی جا رہی ہے تو کہیں شناخت کی بنیاد پر خوف کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ ہجومی تشدد، نفرت پر مبنی نعرے، زبردستی مذہبی نعروں کی تلقین اور غیر قانونی کارروائیاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مسئلہ محض واقعات کا نہیں بلکہ مخصوص ذہنیت کا ہے۔عبادت گاہوں کا عدم تحفظ، مذہبی تہواروں میں رکاوٹیں اور مخصوص قوانین کے نام پر ہراسانی اب غیر معمولی بات نہیں رہی۔ کبھی تہواروں کا بہانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی تبدیلیٔ مذہب کے نام پر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بعض مواقع پر بڑے مذہبی تہواروں کے انعقاد پر سوال کھڑے کیے گئے، جو ایک آزاد ملک کے شایانِ شان نہیں۔ تعلیم، روزگار اور سیاسی نمائندگی کے میدان میں بھی اقلیتوں کو یکساں مواقع میسر نہیں آ رہے۔ بین المذاہب شادیوں کے معاملے میں دوہرا معیار (گھر واپسی) کھلے عام نظر آتا ہے، جو انصاف اور مساوات کے دعووں کو کمزور کرتا ہے۔یہ بات نہایت اہم ہے کہ بھارت کا آئین تمام شہریوں کو بلا امتیاز مساوی حقوق فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 14 قانون کے سامنے برابری کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 15 مذہب، ذات، نسل، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل 25 ہر فرد کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ اور عبادت کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 26 مذہبی امور کے نظم و نسق اور عبادت گاہوں کے قیام و تحفظ کا حق فراہم کرتا ہے۔آرٹیکل 29 اور 30 اقلیتوں کو اپنی زبان، ثقافت اور تعلیمی اداروں کے تحفظ اور فروغ کا اختیار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنی زبان اردو، اپنی تہذیب اور دینی شناخت کو برقرار رکھنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ آئین یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ مسلمان اپنے شخصی قوانین کے تحت نکاح، طلاق اور وراثت جیسے معاملات انجام دے سکتے ہیں۔ اقلیتی کمیشن کا قیام بھی اسی مقصد کے تحت عمل میں آیا تھا کہ اقلیتوں کے مسائل کو سنجیدگی سے سنا اور حل کیا جا سکے۔ان تمام آئینی ضمانتوں کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ آئین کی روح کو بارہا نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘اور’’وشو گرو‘‘کے نعرے صرف تقریروں تک ہی محدود کیوں نظر آتے ہیں؟ کیا اقلیتی برادریوں کی حیثیت محض ووٹ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟ اور کیا ان کی شمولیت کے بغیر جمہوری نظام واقعی مکمل ہو سکتا ہے؟
آج جبکہ دنیا بھر میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر تنازعات بڑھ رہے ہیں، بھارت کے لیے یہ ایک امتحان کا وقت ہے۔ ایک ایسا ملک جو صدیوں سے گنگا جمنی تہذیب کی مثال رہا ہو، اگر وہیں مذہبی کی بنیاد پر تفریق کی جائے تو یہ نہ صرف اندرونی امن بلکہ عالمی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے، عدلیہ اور حکومت مل کر یہ پیغام دیں کہ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کے لیے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں، منوواد اس ملک کے لئے مہلک ہے جسے اُکھاڑ کر پھینکا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔مذہبی آزادی کا تحفظ صرف اقلیتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اکثریت کا بھی اخلاقی اور آئینی فرض ہے۔ آرٹیکل 51(A) ہر شہری کو یہ تلقین کرتا ہے کہ وہ باہمی بھائی چارے، ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کے احترام کو فروغ دے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ بھارت چاہتے ہیں تو ہمیں آئین کو محض کتاب نہیں بلکہ عملی دستورِ حیات بنانا ہوگا۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مذہبی آزادی کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ آزادی، مساوات اور انصاف کسی ایک طبقے کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ہوتے ہیں۔ بھارت جیسے جمہوری ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئینی اقدار کی حفاظت کرے، مذہبی آزادی کو یقینی بنائے اور ہر شہری کو بلا خوف و خطر اپنے عقیدے کے مطابق جینے کا حق دے، تاکہ یہ ملک ایک بار پھر امن، رواداری اور بھائی چارے کی روشن مثال بن سکے۔









